مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُسْتَسْقَى بِهِ باب: کون سی چیز پلائی جانی چاہیے ؟
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي النَّوْمِ بَعْدَ وَفَاتِهِ ، فَأَرَاهُ يَقُولُ : أَحُرِّفَ الْقُرْآنُ يَا أَسْمَاءُ ؟ قُلْتُ : كَذَاكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي الْمُحَرِّفُ وَالْمُسْتَقِيمُ ، فَرَدَ ذَلِكَ عَلِيَّ مِرَارًا ، كُلُّ ذَلِكَ أَقُولُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي الْمُحَرِّفُ وَالْمُسْتَقِيمُ ، ثُمَّ قَالَ لِي : كَيْفَ بَنُوكِ ؟ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ يَقْبِضُونَ قَبْضًا شَدِيدًا ، فَأَرَاهُ نَظَرَ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ كَأَنَّهَا حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ فَقَالَ : أَعْطِيهَا سِقَاءً لَبَنِيهَا ، فَأَمَّا السَّامُ فَإِنِّي لَا أَشْفِي مِنْهُ ، فَأَرَاهَا أَعْطَتْنِي حَبَّةً سَوْدَاءَ كَالشُّونِيزِ ، أَوْ كَحَبِّ الْكُرَّاثِ ، وَتُرَابٍ أَحْمَرَ ، وَسِمْطٍ مِنْ لُؤْلُؤٍ ، قَالَتْ : فَنَحْنُ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مِنْ وَلَدِ أَسْمَاءَ فِي الْقَبَائِلِ كُلِّهَا يَأْخَذُ لَهُ قَدَحٌ فَيُمْلَأُ ، ثُمَّ يُجْعَلُ لَهُ تُرَابٌ أَحْمَرُ ، وَحَبُّ كَرَاثٍ ، وَشُونِيزٍ ، وَسِمْطِ لُؤْلُؤٍ ، ثُمَّ يُسْكَبُ ذَلِكَ الْمَاءُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ یہ فرما رہے تھے : اے اسماء ! کیا قرآن میں غلطی کی جا رہی ہے ؟ میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ایسا ہی ہے ، غلطی بھی ہو رہی ہے ، اور ٹھیک بھی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے یہ بات کئی مرتبہ دہرائی ، ہر مرتبہ میں نے یہی عرض کی : کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ایسا ہی ہے ، غلطی بھی ہو رہی ہے ، اور ٹھیک بھی ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : تمہارے بچوں کا کیا حال ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انہیں شدید قبض لاحق ہے پھر میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی ازواج میں سے کسی کی طرف دیکھا ، شاید وہ حفصہ بنت عمر تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے دوا دیدو ! جو اس کے بچوں کے لئے ہو ، جہاں تک سام کا تعلق ہے ، تو اس سے شفاء نہیں دی جا سکتی ، پر انہوں نے وہ مجھے دکھایا کہ اس خاتون نے مجھے شونیز کی طرح ، یا گندنا کے بیج کی طرح کا سیاہ دانہ دیا ، اور سرخ مٹی دی اور موتیوں کی ڈوری دی ۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے ، جب بھی کوئی بیمار ہوتا تو وہ یہ تمام چیزیں پیالے میں ڈالتی تھیں اور بھر دیتی تھیں ، پھر اس پر سرخ مٹی ڈال دیتی تھیں اور گندنے کا بیج اور شونیز اور موتیوں کی ڈوری ڈال دیتی تھیں اور اس ( بیمار پر ) وہ پانی ڈال دیتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔