حدیث نمبر: 8278
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ دَاءٍ إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً ، عَلِمَ ذَلِكَ مَنْ عَلِمَهُ وَجَهِلَ ذَلِكَ مَنْ جَهِلَهُ ، إِلَّا السَّامَ " . ¤ قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَمَا السَّامُ ؟ قَالَ : " الْمَوْتُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ شَبِيبُ بْنُ شَيْبَةَ ، قَالَ زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ : صَدُوقٌ يَهِمُ . وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کے لئے دواء بھی نازل کی ہے جو شخص اس کو جان لیتا ہے وہ جان لیتا ہے ، اور جو شخص اس سے ناواقف رہتا ہے وہ ناواقف رہتا ہے ، البتہ سام کا معاملہ مختلف ہے لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! سام سے مراد کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : موت ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شبیب بن شیبہ ہے ذکریا ساجی کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، اور وہم کا شکار ہو جاتا ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8278
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «(93) اخرجه البزار فى المسند (3016) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1587)»