مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
كِتَابُ الْخِلَافَةِ . 23 - 1 - 1 - بَابُ الْخُلَفَاءِ الْأَرْبَعَةِ . 8907 عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْجُمَلِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا عَهْدًا نَأْخُذُ بِهِ فِي إِمَارَةٍ ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ رَأَيْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِنَا ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ - عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى عُمَرَ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ حَتَّى ضَرَبَ الدِّينُ بِجُرَّانِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . باب: دواء اور بیماری کی تخلیق
حدیث نمبر: 8277
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ : عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا بِهِ جُرْحٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ادْعُ لَهُ طَبِيبَ بَنِي فُلَانٍ " . قَالَ : فَدَعُوهُ فَجَاءَهُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَيُغْنِي الدَّوَاءُ شَيْئًا ؟ فَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ! وَهَلْ أَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ دَاءٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا جَعَلَ لَهُ شِفَاءً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
ایک انصاری شخص بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کی عیادت کے لئے گئے جسے زخم لاحق تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے لئے بنو فلاں کے طبیب کو بلا کے لاؤ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اس کو بلایا وہ شخص آیا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دواء کسی کام آتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ نے زمین میں جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کے لئے شفاء بھی بنائی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔