مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ باب: لوگوں کو پلانے والا سب سے آخر میں ( خود پیئے گا )
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْزِلًا ، فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ مَعَ ابْنٍ لَهَا بِشَاةٍ ، فَحَلَبَ ثُمَّ قَالَ : " انْطَلِقْ بِهِ إِلَى أُمِّكَ " فَشَرِبَتْ حَتَّى رُوِيَتْ ، ثُمَّ جَاءَ بِشَاةٍ أُخْرَى ، فَحَلَبَ ، ثُمَّ سَقَى أَبَا بَكْرٍ ، ثُمَّ جَاءَ بِشَاةٍ أُخْرَى ، فَحَلَبَ ثُمَّ شَرِبَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . وَابْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي بَكْرٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ، ایک خاتون نے اپنے بیٹے کے ہاتھ آپ کی خدمت میں بکری بھیجی ، آپ نے اس کا دودھ دوہ لیا اور آپ نے ارشاد فرمایا : تم یہ دودھ لے کر اپنی والدہ کے پاس جاؤ ! اس خاتون نے وہ دودھ پیا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئی ، پھر وہ بچہ دوسری بکری لے کے آیا ، آپ نے اس کا دودھ دوہ لیا ، پھر آپ نے وہ دودھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پینے کے لئے دیا ، پھر وہ ایک اور بکری لے کے آیا ، تو آپ نے اس کا دودھ دوہ کر خود پیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ابن ابولیلی نامی راوی نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔