حدیث نمبر: 8262
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : دَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ رَجُلٌ ، فَاسْتَسْقَى ، فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَسَتَرَهُ فَشَرِبَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : " الْحَيَاءُ وَالْإِيمَانُ أُوتُوهُمَا ، وَمُنِعْتُمُوهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ مُطِيعٍ الشَّيْبَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عیینہ بن حصن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی مانگا وہ پانی لایا گیا تو آپ نے پردہ کیا اور پھر اسے پیا ، اس نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حیاء اور ایمان یہ دونوں ایک ساتھ دیے جاتے ہیں ، اور تم کو ان دونوں سے روک دیا گیا ( یا یہ دونوں تمہیں نہیں دیے گئے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن مطیع شیبانی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8262
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2268)»