مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ فِيمَنْ يَسْتَحِلُّ الْخَمْرَ . باب: اس شخص کا بیان ، جو شراب کو حلال قرار دیتا ہے
عَنْ جَعْفَرٍ - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ - قَالَ : أَتَيْتُ فَرْقَدًا يَوْمًا فَوَجَدْتُهُ خَالِيًا ، فَقُلْتُ : يَا ابْنَ أُمِّ فَرَقَدٍ لَأَسْأَلَنَّكَ الْيَوْمَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِكَ فِي الْخَسْفِ وَالْقَذْفِ ، أَشِيءٌ تَقَوُّلُهُ أَنْتَ أَوْ تَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : لَا ، بَلْ أَؤْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : مَنْ حَدَّثَكَ ؟ قَالَ : حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ . وَحَدَّثَنِي بِهِ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَبِيتُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَلَهْوٍ وَلَعِبٍ . ثُمَّ يُصْبِحُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ ، وَيُبْعَثُ عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَائِهِمْ رِيحٌ فَيَنْسِفُهُمْ كَمَا نَسَفَ مَنْ كَانَ قَبْلَهُمْ بِاسْتِحْلَالِهِمُ الْخُمُورَ ، وَضَرْبِهِمْ بِالدُّفُوفِ ، وَاتِّخَاذِهِمُ الْقَيْنَاتِ " . ¤ - رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَفَرْقَدٌ ضَعِيفٌ . ¤جعفر بن سلیمان بیان کرتے ہیں : میں ایک دن فرقد کے پاس آیا ، تو میں نے انہیں تنہا پایا ، تو میں نے کہا: اے ام فرقد کے صاحبزادے ! آج میں آپ سے اس حدیث کے بارے میں ضرور دریافت کروں گا ، میں نے کہا: آپ مجھے زمین میں دھنسائے جانے اور پتھر مارے جانے کے بارے میں اپنے بیان کے حوالے سے بتائیے کہ یہ بات آپ نے خود کہی ہے ؟ یا آپ اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! بلکہ میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتا ہوں ، میں نے دریافت کیا : آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : عاصم بن عمرو بجلی نے ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث مجھے بیان کی ہے ، قتادہ نے ، سعید بن مسیب کے حوالے سے یہ حدیث مجھے بیان کی ہے ، اور ابراہیم نخعی نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کا ایک گروہ کھانے پینے اور لہو و لعب کے عالم میں رات گزاریں گے ، پھر وہ صبح خنزیر اور بندر بن چکے ہوں گے ، اور پھر کسی قبیلے پر ہوا بھیجی جائے گی ، جو انہیں یوں برباد کر دے گی ، جس طرح اس نے ان سے پہلے کے لوگوں کو برباد کر دیا تھا ، اس کی وجہ یہ ہو گی کہ وہ لوگ شراب کو حلال قرار دیں گے ، آلات موسیقی استعمال کریں گے ، اور گانے والی عورتیں رکھیں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے فرقد نامی راوی ضعیف ہے ۔