مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الْاِنْتِبَاذِ فِي كُلِّ وِعَاءٍ . باب: ہر قسم کے برتن میں نبیذ تیار کرنے کا جائز ہونا
وَعَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، وَعَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، وَعَنِ النَّبِيذِ فِي النَّقِيرِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ . ¤ قَالَ : ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ذَلِكَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ ، ثُمَّ بَدَا لِي فِيهِنَّ : نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّهَا تُرِقُّ الْقَلْبَ ، وَتُدْمِعُ الْعَيْنَ ، وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ ، فَزُورُوهَا وَلَا تَقُولُوا: هُجْرًا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّ النَّاسَ يُتْحِفُونَ ضَيْفَهُمْ ، وَيُخَبِّئُونَ لِغَائِبِهِمْ ، فَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ . وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ ، فَاشْرَبُوا فِيمَا شِئْتُمْ ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا مَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " يَبْتَغُونَ أُدْمَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرُ وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَالَ أَحْمَدُ : لَا بَأْسَ بِهِ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّحْوِ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَالْأَضَاحِيِّ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے ، تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے ، اور نقیر ، دباء اور مزفت کی نبیذ استعمال کرنے سے منع کیا تھا ، راوی کہتے ہیں ، پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے پہلے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا ، پھر مجھے یہ بات مناسب لگی ( کہ میں اس بارے میں حکم تبدیل کر دوں ) میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا ، پھر مجھے یہ چیز مناسب لگی کہ یہ چیز دل کو نرم کرتی ہے ، آنسو بہاتی ہے ، آخرت کی یاد دلاتی ہے ، تو تم ان کی زیارت کرو ! لیکن کوئی غلط بات نہ کہنا ، اور میں نے تمہیں قربانی کے گوشت کے بارے میں منع کیا تھا کہ تین دن سے زیادہ اسے نہیں کھانا ، پھر مجھے یہ مناسب لگا کہ لوگ اپنے مہمانوں کو اسے تحفے کے طور پر دے سکتے ہیں ، اپنے غیر موجود افراد کے لئے سنبھال کے رکھ سکتے ہیں ؟ تو اب تم جتنا چاہو روک لو ! اور میں تمہیں ان برتنوں کے بارے میں منع کیا تھا ، اب تم جس میں چاہو اس میں پیو ، لیکن نشہ آور چیز نہ پینا ، جو شخص چاہے وہ اپنے مشکیزے کا منہ گناہ پر بند کر لے “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” لوگ اپنا سالن تلاش کرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ جابر ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام أحمد کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس نوعیت کی دیگر احادیث قبروں کی زیارت کرنے سے متعلق باب میں اور قربانی کے گوشت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔