حدیث نمبر: 8151
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : جَلَسْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ فَقَالَ : " مَا لَكُمْ قَدِ اصْفَرَّتْ أَلْوَانُكُمْ ، وَعَظُمَتْ بُطُونُكُمْ ، وَظَهَرَتْ عُرُوقُكُمْ ؟ " قَالُوا : أَتَاكَ سَيِّدُنَا فَسَأَلَكَ عَنْ شَرَابٍ كَانَ لَنَا مُوَافِقًا فَنَهَيْتَهُ عَنْهُ ، وَكُنَّا بِأَرْضٍ وَبِيئَةٍ وَخِمَةٍ قَالَ : " فَاشْرَبُوا مَا بَدَا لَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَجِيبَةُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يَكَادُ يُعْرَفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، عبدالقیس قبیلے کا وفد آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا وجہ ہے کہ تم لوگوں کے رنگ زرد ہو رہے ہیں اور پیٹ بڑھ رہے ہیں اور تمہاری رگیں ظاہر ہو گئی ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : ہمارے سردار آپ کے پاس آئے تھے ، انہوں نے آپ سے مشروب کے بارے میں دریافت کیا تھا ، جو ہمیں موافق تھا ، تو آپ نے انہیں منع کر دیا تھا ، ہم ایک نا موافق آب و ہوا والی سرزمین پر رہتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں جو مناسب لگے وہ پی لو !
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عجیبہ بن عبدالحمید ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ غیر معروف ہونے کے قریب ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8151
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8256)»