مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الْاِنْتِبَاذِ فِي كُلِّ وِعَاءٍ . باب: ہر قسم کے برتن میں نبیذ تیار کرنے کا جائز ہونا
وَعَنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي جَرٍّ أَخْضَرَ ، قَالَ : فَقَدِمَ أَبُو بَرْزَةَ مِنْ غَيْبَةٍ غَابَهَا فَبَدَأَ بِمَنْزِلِ أَبِي بَكْرَةَ ، فَلَمْ يُصَادِفْهُ فِي الْمَنْزِلِ ، فَوَقَفَ عَلَى امْرَأَتِهِ فَسَأَلَهَا عَنِ أَبِي بَكْرَةَ فَأَخْبَرَتْهُ ، ثُمَّ أَبْصَرَ الْجَرَّ الْتِي كَانَتْ فِيهَا النَّبِيذُ فَقَالَ : مَا فِي هَذِهِ الْجَرَّةِ ؟ قَالَتْ : نَبِيذٌ لِأَبِي بَكْرَةَ قَالَ : وَدِدْتُ أَنَّكِ جَعَلْتِيهِ فِي سِقَاءٍ ، فَأَمَرَتْ بِذَلِكَ النَّبِيذِ فَجُعِلَ فِي سِقَاءٍ ، ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرَةَ فَأَخْبَرَتْهُ عَنِ أَبِي بَرْزَةَ فَقَالَ : مَا فِي هَذَا السِّقَاءِ ؟ قَالَتْ : أَمَرَنَا أَبُو بَرْزَةَ أَنْ نَجْعَلَ نَبِيذَكَ فِيهِ قَالَ : مَا أَنَا بِشَارِبٍ مِمَّا فِيهِ لَئِنْ جَعَلْتِ الْخَمْرَ فِي سِقَاءٍ لِيَحِلَّنَّ ، وَلَئِنْ جَعَلْتِ الْعَسَلَ فِي جَرٍّ لِيَحْرُمَنَّ عَلَيَّ ، إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا الْذِي نُهِينَا عَنْهُ . ¤ نُهِينَا عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ . فَأَمَّا الدُّبَّاءُ فَإِنَّا مَعْشَرَ ثَقِيفٍ كُنَّا نَأْخُذُ الدُّبَّاءَ فَنَخْرُطُ فِيهَا عَنَاقِدَ الْعِنَبِ ، ثُمَّ نُدْفِئُهَا حَتَّى تُهْدَرَ ، ثُمَّ تَمُوتُ . ¤ وَأَمَّا النَّقِيرُ فَإِنَّ أَهْلَ الْيَمَامَةِ كَانُوا يَنْقُرُونَ أَصْلَ النَّخْلَةِ ، ثُمَّ يَشْدَخُونَ فِيهَا الْرُطَبَ وَالْبُسْرَ ، ثُمَّ يَدَعُونَهُ حَتَّى يُهْدَرَ ، ثُمَّ يَمُوتُ . وَأَمَّا الْحَنْتَمُ فَجِرَارٌ حُمْرٌ كَانَتْ تُحْمَلُ إِلَيْنَا فِيهَا الْخَمْرُ ، وَأَمَّا الْمُزَفَّتُ فَهَذِهِ الْأَوْعِيَةُ الْتِي فِيهَا الزِّفْتُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان کے لئے ایک سبز گھڑے میں نبیذ تیار کی جاتی تھی راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ طویل عرصے تک غیر موجود رہنے کے بعد تشریف لائے وہ پہلے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو وہ انہیں گھر نہیں ملے ، وہ ان کی اہلیہ کے پاس ٹھہرے اور ان سے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا ، تو ان کی اہلیہ نے انہیں بتایا کہ وہ باہر گئے ہوئے ہیں ) پھر سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے وہ گھڑا دیکھا جس میں ان کے لئے نبیذ تیار کی جاتی تھی ، انہوں نے دریافت کیا : یہ گھڑا کس لئے ہے ؟ اس خاتون نے کہا: سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے لئے نبیذ تیار کرنے کے لئے ، تو سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری یہ خواہش ہے کہ تم وہ نبیذ مشکیزے میں تیار کیا کرو تو اس خاتون نے ہدایت کی کہ ان کے لئے نبیذ مشکیزے میں تیار کی جائے ، جب سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، تو اس خاتون نے انہیں سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایا ، سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یہ مشکیزہ کس لئے ہے ؟ اس خاتون نے کہا: سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ ہدایت کی ہے کہ ہم آپ کی نبیذ مشکیزے میں تیار کیا کریں ، تو سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس میں جو نبیذ ہے ، وہ میں نہیں پیؤں گا ، کیا ایسا ہو گا کہ اگر تم شراب کو مشکیزے میں تیار کر لو تو وہ حلال ہو جائے گی ؟ اور اگر تم نے شہد کو گھڑے میں رکھا ہوا ہو ، تو وہ مجھ پر حرام ہو جائے گا ؟ ہمیں ان باتوں کا پتہ ہے ، جن سے ہمیں منع کیا گیا ہے ، ہمیں دباء ، حنتم ، نقیر اور مزفت سے منع کیا گیا ہے ، جہاں تک دباء کا تعلق ہے ، تو ہم ثقیف قبیلے کے لوگ دباء ( یعنی کدو ) لیتے تھے ، پھر اس میں انگور کے گچھے ڈال دیتے تھے ، پھر اس کو دفن کر دیتے تھے ، یہاں تک کہ ( وہ مشروب ) جوش میں آ جاتا ، پھر وہ جوش ختم ہو جاتا ۔ جہاں تک نقیر کا تعلق ہے ، تو اہل یمامہ کھجور کی جڑ کو کھودتے تھے ، پھر اس میں تازہ اور خشک کھجوریں ڈال دیتے تھے ، پھر وہ اسے چھوڑ دیتے تھے “ یہاں تک کہ ( وہ مشروب ) جوش میں آ جاتا ، پھر وہ جوش ختم ہو جاتا ۔ جہاں تک حنتم کا تعلق ہے ، تو یہ سرخ رنگ کے گھڑے ہوتے تھے ، جنہیں اُٹھا کر ہماری طرف لایا جاتا تھا ، ان میں شراب ہوتی تھی ۔ جہاں تک مزفت کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد وہ برتن ہے ، جن میں زفت ( تارکول نمام چیز ) ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔