حدیث نمبر: 8148
وَعَنِ الْأَشَجِّ الْعَصْرِيِّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رُفْقَةٍ مِنْ عَبَدِ الْقَيْسِ لِيَزُورُوهُ ، فَأَقْبَلُوا ، فَلَمَّا قَدِمُوا رَفَعَ لَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَأَنَاخُوا رِكَابَهُمْ ، وَابْتَدَرَهُ الْقَوْمُ وَلَمْ يَلْبَسُوا إِلَّا ثِيَابَ شَعْرِهِمْ ، وَأَقَامَ الْعَصْرِيُّ يَعْقِلُ رِكَابَ أَصْحَابِهِ وَبَعِيرَهُ ثُمَّ أَخْرَجَ ثِيَابَهُ مِنْ عَيْبَتِهِ ، وَذَلِكَ بِعَيْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ فِيكَ لِخُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ " قَالَ : مَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْأَنَاةُ وَالْحِلْمُ " . قَالَ : شَيْءٌ جُبِلْتُ عَلَيْهِ أَوْ شَيْءٌ مِنَ الْخِلْقَةِ ؟ قَالَ : " بَلْ جُبِلْتَ عَلَيْهِ " قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، قَالَ : " مَعْشَرَ عَبْدِ الْقَيْسِ مَا لِي أَرَى وُجُوهَكُمْ قَدْ تَغَيَّرَتْ ؟ " قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَحْنُ بِأَرْضٍ وَخِمَةٍ ، وَكُنَّا نَتَّخِذُ مِنْ هَذِهِ الْأَنْبِذَةِ مَا يُقَطِّعُ اللُّحْمَانَ فِي بُطُونِنَا ، فَلَمَّا نَهَيْتَنَا عَنِ الظُّرُوفِ فَذَلِكَ الْذِي تَرَى فِي وُجُوهِنَا . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الظُّرُوفَ لَا تَحِلُّ وَلَا تَحْرُمُ ، وَلَكِنْ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَلَيْسَ أَنْ تَجْلِسُوا فَتَشْرَبُوا حَتَّى إِذَا ثَمِلَتِ الْعُرُوقُ تَفَاخَرْتُمْ فَوَثَبَ الرَّجُلُ عَلَى ابْنِ عَمِّهِ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ فَتَرَكَهُ أَعْرَجَ " . ¤ قَالَ : وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي الْقَوْمِ الْأَعْرَجُ الْذِي أَصَابَهُ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ مَاوَى أَبُو الْمَنَازِلِ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا اشج عصری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ساتھیوں سمیت حاضر ہوئے ، جن کا تعلق عبدالقیس قبیلے سے تھا ، تاکہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کریں ، جب وہ لوگ آئے ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے انہوں نے اپنی سواریاں بٹھائیں اور تیزی سے چلتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے ، انہوں نے اپنا روایتی سفر کا لباس پہنا ہوا تھا ، لیکن سیدنا اشج عصری رضی اللہ عنہ ٹھہر گئے انہوں نے اپنے ساتھیوں کی سواریوں کو اور اپنے اونٹ کو باندھا ، پھر انہوں نے اپنے تھیلے میں سے اپنا عمدہ لباس نکالا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب ملاحظہ فرما رہے تھے ، پھر وہ ( عمدہ لباس پہن کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے اندر دو خصوصیات ہیں ، جنہیں اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ دونوں کون سی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تحمل مزاجی اور بردباری ، انہوں نے عرض کی : یہ میری جبلت میں شامل ہے یا یہ اپنی کوشش سے حاصل کی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ تمہاری جبلت میں شامل ہے ۔ انہوں نے کہا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عبدالقیس قبیلے کے ارکان ! کیا وجہ ہے کہ میں تمہارے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ متغیر ہو چکے ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ہم ایک ناموافق آب و ہوا والی سرزمین پر رہتے ہیں پہلے ہم یہ نبیذ تیار کیا کرتے تھے ، جو ہمارے پیٹ میں ( اونٹوں کے ) گوشت کو ہضم کروا دیتی تھی ، لیکن جب آپ نے ہمیں برتن استعمال کرنے سے منع کیا ، تو اس کا نتیجہ یہ نکلا ، جو آپ ہمارے چہروں پر ملاحظہ فرما رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتا ہے ، البتہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ، ایسا نہ ہو کہ تم لوگ بیٹھ کر اس مشروب کو پیؤ ، یہاں تک کہ جب رگیں مست ہو جائیں ، تو تم ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کرو ، تم میں سے کوئی ایک شخص اچھل کر اپنے چچازاد کی طرف جائے ، اور اس کو تلوار مارے اور اسے لنگڑا کر کے چھوڑ دے ۔ راوی کہتے ہیں : اُس وقت ان لوگوں میں ایک لنگڑے صاحب موجود تھے ، جن کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن ماوی ابومنازل ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اسے ضعیف بھی قرار نہیں دیا اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8148
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف