مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الْاِنْتِبَاذِ فِي كُلِّ وِعَاءٍ . باب: ہر قسم کے برتن میں نبیذ تیار کرنے کا جائز ہونا
وَعَنْ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَأْذَنَ لِي فِي جَرَّةٍ أَنْتَبِذُ فِيهَا ، فَرَخَّصَ لِي فِيهَا أَوْ أَذِنَ لِي فِيهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صُحَارٍ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ وَلَمْ يَجْرَحْهُ . وَالضَّحَّاكُ بْنُ يَسَارٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ : يُضَعِّفُهُ الْبَصْرِيُّونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا صحار عبدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ آپ مجھے گھڑے میں نبیذ تیار کرنے کی اجازت دیدیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی رخصت دیدی ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی اجازت دیدی ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن صحار ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کی توثیق نہیں کی اور اس پر جرح بھی نہیں کی ، ضحاک بن یسار نامی راوی کو ابوحاتم اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : اہل بصرہ اسے ضعیف قرار دیتے ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔