مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَوْعِيَةِ . باب: برتنوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ مُوَلَّاةِ قَرَظَةَ قَالَتْ : أَمَّا الدُّبَّاءُ فَهُوَ الْقَرْعُ الْذِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُ . وَقَالَ : الْحَنْتَمُ حَنَاتِمُ تَكُونُ بِأَرْضِ الْعَجَمِ فَهُوَ الْذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّقِيرُ أُصُولُ النَّخْلَةِ الْمُخْضَرَّةِ الثَّابِتَةِ الْتِي نَهَى عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهَا كُلَّهَا الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَفِيهَا كُلُّهَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ بَيَانُ ذَلِكَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ فِي هَذَا الْبَابِ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ فَلَا حَاجَةَ لِهَذَا . ¤ام معبد ، جو سیدنا قرظہ رضی اللہ عنہ کی کنیز ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : جہاں تک دباء کا تعلق ہے ، تو یہ وہ کدو ہے ، جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے ، جہاں تک حنتم کا تعلق ہے ، تو یہ وہ سبز مٹکے ہیں ، جو عجمیوں کی سرزمین میں ہوتے ہیں ، اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے نقیر سے مراد کھجور کے درخت کی جڑ ہے جو سبز اور ثابت ہوتی ہے ، اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان سب میں ایک راوی یحیی بن حارث تیمی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، اس باب میں صحیح سند کے ساتھ اس کا بیان گزر چکا ہے ، تو اب اس کی ضرورت نہیں ہے ۔