مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَوْعِيَةِ . باب: برتنوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ أَبِي مُوسَى قَالَ : تَحَيَّنْتُ فِطْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيْتُهُ بِنَبِيذِ جَرٍّ ، فَلَمَّا أَدْنَاهُ إِلَى فِيهِ إِذَا هُوَ يَنِشُّ فَقَالَ : " اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطِ ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ كِلَاهُمَا بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی افطاری کا وقت ہوا ، تو میں آپ کے پاس گھڑے کی نبیذ لے کر آیا ، جب میں نے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کی ، تو اس میں جوش آ چکا تھا ( یا جھاگ بن چکا تھا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے دیوار پر پھینک دو ! کیونکہ یہ اس شخص کا مشروب ہے ، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ ان دونوں حضرات ( یعنی امام بزار اور امام طبرانی ) نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن سلیمان بن موسیٰ ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔