حدیث نمبر: 8077
وَعَنِ أَنَسٍ قَالَ : بَيْنَا أَنَا أُدِيرُ الْكَأْسَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، وَسُهَيْلِ بْنِ بَيْضَاءَ ، وَأَبِي دُجَانَةَ حَتَّى مَالَتْ رُءُوسُهُمْ إِذْ سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي : أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ . فَمَا دَخَلَ عَلَيْنَا دَاخِلٌ وَلَا خَرَجَ مِنَّا خَارِجٌ ، فَأَهْرَقْنَا الشَّرَابَ ، وَكَسَرْنَا الْقِلَالَ ، وَتَوَضَّأَ بَعْضُنَا ، وَاغْتَسَلَ بَعْضُنَا ، وَأَصَبْنَا مِنْ طِيبِ أُمِّ سُلَيْمٍ ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ " حَتَّى بَلَغَ : " فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ " فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا مَنْزِلَةُ مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْرَبُهَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . ¤ فَقَالَ رَجُلٌ لِقَتَادَةَ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنِسٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ . وَقَالَ رَجُلٌ لِأَنَسٍ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . أَوْ حَدَّثَنِي مَنْ لَا يَكْذِبُنِي وَاللَّهِ مَا كُنَّا نَكْذِبُ وَلَا نَدْرِي مَا الْكَذِبُ . ¤ قُلْتُ : لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ کو شراب پلا رہا تھا ان حضرات کے سر ادھر ادھر مائل ہو رہے تھے اسی دوران ہم نے ایک اعلان کرنے والے کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا خبردار شراب حرام قرار دیدی گئی ہے ، تو نہ کوئی شخص باہر سے اندر آیا اور نہ ہی ہم میں سے کوئی شخص باہر نکلا ہم نے شراب کو بہا دیا گھڑے کو توڑ دیا ہم میں سے کسی نے وضو کیا کسی نے غسل کیا پھر ہم نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس موجود خوشبو لگائی پھر ہم نکل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کی طرف گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھ رہے تھے : ” اے ایمان والو ! بے شک شراب اور جوا اور بت اور پانسہ نجس ہیں اور شیطان کے عمل کا حصہ ہیں ، تو تم اس سے اجتناب کرو تاکہ تم فلاح پا لو “ ۔ یہ آیت آپ نے یہاں تک پڑھی : ” تو کیا تم باز آنے والے ہو “ ۔ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص کا مقام کیا ہو گا ، جو ایسی حالت میں مر گیا کہ وہ شراب پیا کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ” جو لوگ ایمان لائے ، اور انہوں نے نیک اعمال کیے ، تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اس حوالے سے جو انہوں نے کھایا ہو “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، تو ایک صاحب نے قتادہ سے کہا: کیا آپ نے خود سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ایک شخص نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) مجھے اس شخص نے یہ بات بیان کی ہے جس نے جھوٹ نہیں بولا اللہ کی قسم ! ہم جھوٹ نہیں بولا: کرتے تھے اور ہمیں یہ پتہ بھی نہیں تھا کہ جھوٹ کیا ہوتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث صحیح میں بھی مذکور ہے ، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8077
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2922)»