حدیث نمبر: 8076
وَعَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنْتُ سَاقِي الْقَوْمِ تِينًا وَزَبِيبًا خَلَطْنَاهُمَا جَمِيعًا وَكَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا شْرِبْ قَالَ : ¤ أُحَيِّي أُمَّ بَكْرٍ بِالسَّلَامِ وَهَلْ لَكَ بَعْدَ قَوْمِكَ مِنْ سَلَامِ يُحَدِّثُنَا الرَّسُولُ بِأَنْ سَنُحْيَى ¤ وَكَيْفَ حَيَاةُ أَصْدَاءٍ وَهَامِ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ وَالْقَوْمُ يَشْرَبُونَ إِذْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ : مَا تَصْنَعُونَ ؟ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ نَزَّلَ تَحْرِيمَ الْخَمْرِ . فَأَرَقْنَا الْبَاطِيَةَ وَكَفَأْنَاهَا ، ثُمَّ خَرَجْنَا فَوَجَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمًا عَلَى الْمِنْبَرِ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ وَيُكَرِّرُهَا : " إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ " . ¤ قُلْتُ لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مَطَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں لوگوں کو تین اور زبیب پلا رہا تھا ہم نے ان دونوں کو ملا کے مشروب تیار کیا تھا ۔ حاضرین میں ایک صاحب موجود تھے جن کو ابوبکر کہا: جاتا تھا جب انہوں نے وہ مشروب پیا تو یہ اشعار کہے : ” میں بکر کی والدہ کو سلام کہتا ہوں کیا تمہاری قوم کے بعد تمہیں سلامتی میں کوئی دلچسپی ہے رسول نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ عنقریب ہمیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ، تو پھر صدی ( نامی پرندے ) اور ہامہ ( ایک قول کے مطابق اس سے مراد بھی پرندہ ہے اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد ، انسانی کھوپڑی ہے ) کی زندگی کا کیا ہو گا “ ۔ راوی کہتے ہیں : ابھی ہم اسی حالت میں تھے اور لوگ شراب پی رہے تھے کہ اسی دوران مسلمانوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہمارے پاس آیا اور بولا: تم کیا کر رہے ہو اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام قرار دینے کا حکم نازل کر دیا ہے ، تو ہم نے شراب کے برتنوں سے علیحدگی اختیار کی اور ( شراب کو ) انڈیل دیا پھر ہم وہاں سے نکلے ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ۔ آپ منبر پر کھڑے ہوئے تھے اور یہ آیت تلاوت کر رہے تھے اور اس کی تکرار کر رہے تھے : ” شیطان یہ ارادہ کرتا ہے کہ تمہارے درمیان شراب اور جوئے کے حوالے سے عداوت اور دشمنی ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے ، تو کیا تم باز آنے والے ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صحیح میں ایک حدیث مذکور ہے جو شراب کی حرمت کے بارے میں ہے ، لیکن وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مطر بن میمون ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8076
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2923)»