مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ . باب: پالتو گدھوں کا بیان
وَعَنِ أَبِي الْوَدَاكِ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ قَالَ : أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ خَيْبَرَ وَكُنَّا نَعْزِلُ عَنْهُنَّ نَلْتَمِسُ أَنْ نُفَادِيَهُنَّ مِنْ أَهْلِهِنَّ ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : تَفْعَلُونَ هَذَا وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ائْتُوهُ فَسَلُوهُ فَأَتَيْنَاهُ ، أَوْ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : " مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ إِذَا قَضَى اللَّهُ أَمَرًا كَانَ " . ¤ وَمَرَرْنَا بِالْقُدُورِ وَهَى تَغْلِي فَقَالَ لَنَا : " مَا هَذِهِ اللَّحْمُ ؟ " قُلْنَا : لَحْمُ حُمُرٍ . فَقَالَ لَنَا : " أَهْلِيَّةٌ أَوْ وَحْشِيَّةٌ ؟ " فَقُلْنَا : لَا بَلْ أَهْلِيَّةٌ قَالَ لَنَا : " أَكَفِئُوهَا " قَالَ : فَكَفَأْنَاهَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ نَشْتَهِيهِ . ¤ قَالَ : وَكُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نُوكِئَ الْأَسْقِيَةَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ قِصَّةُ الْعَزْلِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ . ¤ابووداک بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی غزوہ خیبر کے موقع پر ہمارے ہاتھ کنیزیں لگیں ہم نے ان سے عزل کرنا شروع کر دیا ہم یہ چاہتے تھے کہ ان کے گھر والوں سے ان کا فدیہ وصول کریں ہم میں سے کسی ایک نے دوسروں سے کہا: تم لوگ ایسا کر رہے ہو جبکہ اللہ کے رسول تمہارے درمیان موجود ہیں تم ان کی خدمت میں جاؤ اور ان سے دریافت کرو ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہم نے آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس بھی نطفے سے بچے نے پیدا ہونا ہو جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فیصلہ دیدیا تو وہ ( پیدا ) ہو کے رہے گا ۔ راوی کہتے ہیں ، پھر ہمارا گزر ہنڈیاؤں کے پاس سے ہوا جو جوش مار رہی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دریافت کیا : یہ کس چیز کا گوشت ہے ہم نے عرض کی : گدھوں کا گوشت ہے آپ نے فرمایا : پالتو یا جنگی ؟ ہم نے عرض کی : جی نہیں بلکہ پالتو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان ہنڈیاؤں کو انڈیل دو راوی کہتے ہیں تو ہم نے انہیں انڈیل دیا حالانکہ ہم بھوکے تھے اور ہمیں اس ( گوشت ) کی شدید طلب تھی ۔ راوی بیان کرتے ہیں ۔ ہمیں یہ حکم دیا گیا کہ ہم مشکیزوں کا منہ بند کر دیا کریں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت میں سے صرف عزل والا حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔