حدیث نمبر: 8027
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ قَالَ : اسْتَفْتَتْنِي امْرَأَةٌ بِمَكَّةَ فَقُلْتُ لَهَا : هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَيْكِ بِهِ فَاسْتَفْتِيهِ . فَانْدَفَعَتْ نَحْوَهُ فَاتَّبَعْتُهَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ فَقَالَتْ : أَفْتِنِي عَنِ الْجُبْنِ ؟ فَقَالَ : وَمَا الْجُبْنُ ؟ قَالَتْ : شَيْءٌ نَصْنَعُهُ مِنَ اللَّبَنِ كَذَا وَكَذَا وَيَجْبُنُونَ الْأَنْفِحَةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا يَصْنَعُ الْمُسْلِمُونَ وَأَهْلُ الْكِتَابِ فَكُلِيهِ وَمَا لَمْ يَصْنَعُوهُ فَلَا تَأْكُلِيهِ قَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ أَفْتِنِي عَنِ الْجَرَادِ ؟ قَالَ : ذَكِيٌّ كُلُّهُ قَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ أَفْتِنِي عَنِ الذَّهَبِ قَالَ : يُكْرَهُ لِلرِّجَالِ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا شَيْخِهِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

علی بن عبداللہ بارقی بیان کرتے ہیں : مکہ میں ایک خاتون نے مجھ سے مسئلہ دریافت کیا : میں نے اسے کہا: یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما موجود ہیں تم ان کے پاس جا کر ان سے یہ حکم دریافت کرو وہ خاتون ان کی طرف بڑھی ، تو میں اس کے پیچھے چلا گیا تاکہ یہ بات سن لوں کہ وہ کیا کہتی ہے ؟ اس عورت نے کہا: آپ مجھے پنیر کے بارے میں حکم بیان کیجئے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پنیر کیا ہوتا ہے ؟ اس نے جواب دیا : ہم دودھ سے اس ، اس طرح اسے تیار کرتے ہیں اور وہ لوگ انفحہ ( نام کے مخصوص درخت ) کو کاٹتے ہیں ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو مسلمانوں اور اہل کتاب نے تیار کیا ہو اسے تم کھا لو اور جو ان لوگوں نے تیار نہ کیا ہو اسے تم نہ کھاؤ اس خاتون نے کہا: اے سیدنا عبداللہ ! آپ مجھے ٹڈی دل کے بارے میں فتوی دیجئے انہوں نے فرمایا : یہ پورا پاک ہوتا ہے ( یعنی اسے ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ) اس خاتون نے کہا: اے سیدنا عبداللہ ! آپ مجھے سونے کے بارے میں فتوی دیجئے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے مردوں کے لئے حرام قرار دیا گیا ہے اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8027
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح