حدیث نمبر: 8009
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَا هُمْ عِنْدَهُ قُعُودٌ ، إِذْ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ : " تَمْرَةٌ تَدْعُونَهَا كَذَا وَكَذَا وَتَمْرَةٌ تَدْعُونَهَا كَذَا " حَتَّى عَدَّ أَلْوَانَ تَمَرَاتِهِمْ أَجْمَعَ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا وَاللَّهِ لَوْ كُنْتَ وُلِدْتَ فِي جَوْفِ هَجَرٍ مَا كُنْتَ أَعْلَمَ مِنْكَ السَّاعَةَ ؟ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَرْضَكُمْ رُفِعَتْ لِي مُنْذُ قَعَدْتُمْ إِلَيَّ فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا مِنْ أَدْنَاهَا إِلَى أَقْصَاهَا ، فَخَيْرُ تَمْرَاتِكُمُ الْبَرْنِيُّ يُذْهِبُ الدَّاءَ وَلَا دَاءَ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ الْقَيْسِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے آپ نے ان سے ارشاد فرمایا : ایک قسم کی کھجور وہ ہے ، جسے تم یہ نام دیتے ہو ایک قسم کی کھجور وہ ہے ، جسے تم یہ نام دیتے ہو یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی کھجوروں کی تمام قسموں کو شمار کروا دیا تو حاضرین میں سے ایک شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اگرچہ میں حجر کے علاقے کے درمیان میں پیدا ہوا ہوں لیکن مجھے اس وقت تک کھجوروں کی ان قسموں کے بارے میں آپ سے زیادہ علم نہیں ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم لوگ میرے پاس آ کر بیٹھے ، تو تمہاری زمین میرے سامنے پیش کی گئی میں نے اس کے قریبی حصے سے لے کے دور تک کے حصے کو دیکھ لیا تمہاری کھجوروں میں سب سے بہتر برنی ہے جو بیماری کو رخصت کر دیتی ہے ، اور اس میں بیماری نہیں ہوتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد قیسی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8009
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف