حدیث نمبر: 8008
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَفْدِ سَدُوسَ ، فَأَهْدَيْنَا لَهُ تَمْرًا فَقَرَّبْنَاهُ إِلَيْهِ عَلَى نِطْعٍ فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنَ التَّمْرِ فَقَالَ أَنَسٌ : أَيْشُ هَذَا ؟ أَوْ مَا هَذَا ؟ فَجَعَلْنَا نُسَمِّي حَتَّى ذَكَرْنَا تَمْرًا فَقُلْنَا : هَذَا الْجُذَامَى فَقَالَ : " بَارَكَ اللَّهُ فِي الْجُذَامَى وَفِي حَدِيقَةٍ خَرَجَ هَذَا مِنْهَا أَوْ جَنَّةٍ خَرَجَ هَذَا مِنْهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ يَعْرِفْهُمُ الْعَلَائِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سدوس قبیلے کے وفد کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ہم نے آپ کی خدمت میں تمر ( کھجوریں ) پیش کیں ہم نے ایک دستر خوان پر رکھ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر کھجوریں لیں سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یہ کون سی ہیں یا یہ کون سی ہیں ، تو ہم نے ان کے نام بیان کرنا شروع کیے یہاں تک کہ ہم نے تمر کا ذکر کیا ، تو ہم نے کہا: یہ جذامی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جذامی میں برکت دے اور اس باغ میں برکت دے جس میں سے یہ نکلی ہے ( یہاں باغ کے لئے ایک روایت میں لفظ مختلف نقل ہوا ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے علائی واقف نہیں ہے ، اور میں بھی ان سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8008
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2882)»