مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابُ قِلَّةِ الْأَكْلِ . باب: تھوڑا کھانا
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : أَكَلْتُ ثَرِيدَةً بِلَحْمٍ سَمِينٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَتَجَشَّأُ ، فَقَالَ : " اكْفُفْ عَنَّا جُشَاءَكَ أَبَا جُحَيْفَةَ فَإِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ شَبَعًا فِي الدُّنْيَا أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ فَمَا أَكَلَ أَبُو جُحَيْفَةَ مِلْءَ بَطْنِهِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا ، كَانَ إِذَا تَغَدَّى لَا يَتَعَشَّى ، وَإِذَا تَعَشَّى لَا يَتَغَدَّى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ ، وَفِي أَحَدِ أَسَانِيدِ الْكَبِيرِ مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْكُوفِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے بہت سے گوشت کا ثرید کھایا جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں ڈکار مار رہا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوحجیفہ ! اپنے ڈکار ہم سے روک کے رکھو کیونکہ دنیا میں زیادہ سیر ہو کر کھانے والے قیامت کے دن زیادہ دیر بھوکے رہیں گے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو پھر سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا یہاں تک کہ وہ دنیا سے رخصت ہو گئے اگر وہ صبح کے وقت کچھ کھا لیتے تھے ، تو شام کو نہیں کھاتے تھے ، اور اگر وہ شام کو کھا لیتے تھے ، تو صبح نہیں کھاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ معجم کبیر کی اسانید میں سے ایک سند میں ایک راوی محمد بن خالد کوفی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔