مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَكْلِ مِنْ وَسَطِ الْإِنَاءِ . باب: برتن کے درمیان میں سے کھانا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَدْعُوهُ إِلَى طَعَامٍ ، فَجَاءَ مَعِي فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَنْزِلِ أَسْرَعْتُ فَأَعْلَمْتُ أَبَوَيَّ فَخَرَجَا ، فَتَلَقَّيَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَحَّبَا وَوَضَعَا لَهُ قَطِيفَةً كَانَتْ عِنْدَنَا زِئْبَرِيَّةً فَقَعَدَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ أَبِي لِأُمِّي : هَاتِ طَعَامَكِ ، فَجَاءَتْ بِقَصْعَةٍ فِيهَا دَقِيقٌ قَدْ عَصَدَتْهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ فَوَضَعَتْهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " خُذُوا بِاسْمِ اللَّهِ مِنْ جَوَانِبِهَا وَذَرُوا ذُرْوَتَهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ فِيهَا " . ¤ فَأَكْلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَكَلْنَا مَعَهُ ، وَفَضَلَ مِنْهَا فَضْلَةٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ ، وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ وَوَسِّعْ عَلَيْهِمْ فِي أَرْزَاقِهِمْ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بھیجا تاکہ میں آپ کو کھانے کے لئے بلاؤں آپ میرے ساتھ تشریف لائے ، جب میں گھر کے قریب پہنچا تو میں تیزی سے چلتا ہوا گیا اور میں نے اپنے ماں باپ کو اس بارے میں بتایا تو وہ دونوں نکل کر آئے ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی ان دونوں نے آپ کو خوش آمدید کہا: آپ کے لئے چادر بچھائی جو ہمارے پاس موجود تھی اور وہ روئیں دار تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوئے پھر میرے والد نے میری والدہ سے کہا: کھانا لے کے آؤ تو وہ ایک پیالہ لے کے آئیں جس میں آٹا تھا ، جسے انہوں نے پانی اور نمک کے ذریعے تیار کیا تھا وہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کا نام لے کر اس کے اطراف میں سے کھانا شروع کرو اور اس کے ( درمیان والے ) اوپر والے حصے کو رہنے دو کیونکہ اس میں برکت ہوتی ہے “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا ہم نے بھی آپ کے ساتھ کھانا کھایا اس میں سے کھانا بچ گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : ” اے اللہ ! ان لوگوں کی مغفرت کر دے ان پر رحم کر ان پر برکت نازل فرما اور ان کے رزق کو ان پر کشادہ کر دے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔