مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ قَبْلَ الْأَكْلِ وَبَعْدَهُ مِنَ التَّسْمِيَةِ وَالْحَمْدِ . باب: آدمی کھانے سے پہلے اور اس کے بعد تسمیہ اور حمد کے حوالے سے کیا پڑھے ؟
عَنِ ابْنِ أَعْبُدَ قَالَ : قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : يَا ابْنَ أَعْبُدَ [ هَلْ ] تَدْرِي مَا حَقُّ الطَّعَامِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَمَا حَقُّهُ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ ؟ قَالَ : تَقُولُ : بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا ، قَالَ : وَتَدْرِي مَا شُكْرُهُ إِذَا فَرَغْتَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَمَا شُكْرُهُ ؟ قَالَ : تَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَذَكَرَهُ بِطُولِهِ . وَابْنُ أَعْبُدَ قَالَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ : لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ابن اعبد بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : اے ابن اعبد ! کیا تم جانتے ہو کھانے کا حق کیا ہے ؟ میں نے کہا: اے ابن ابوطالب ! اس کا حق کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : تم یہ پڑھو : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اے اللہ ! جو تو نے ہمیں رزق عطا کیا ہے اس میں ہمارے لئے برکت رکھ دے “ پھر انہوں نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ جب تم اس سے فارغ ہو جاؤ تو اس کا شکر کیا ہے ؟ میں نے دریافت کیا : اس کا شکر کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : تم یہ پڑھو : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے ہمیں کھلایا اور جس نے ہمیں پلایا “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ابن اعبد کے بارے میں ابن مدینی نے یہ کہا: ہے یہ معروف نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔