مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابُ إِطْعَامِ الطَّعَامِ باب: کھانا کھلانا
وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ أَنَّ صُهَيْبًا كَانَ يُكَنَّى أَبَا يَحْيَى ، وَيَقُولُ : إِنَّهُ مِنَ الْعَرَبِ ، وَيُطْعِمُ الطَّعَامَ الْكَثِيرَ . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا صُهَيْبُ مَا لَكَ تُكَنَّى أَبَا يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ ؟ وَتَقُولُ : إِنَّكَ مِنَ الْعَرَبِ وَتُطْعِمُ الطَّعَامَ الْكَثِيرَ ، وَذَلِكَ سَرَفٌ فِي الْمَالِ . فَقَالَ صُهَيْبٌ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَنَّانِي أَبَا يَحْيَى ، وَأَمَّا قَوْلُكَ فِي النَّسَبِ ، فَأَنَا رَجُلٌ مِنَ النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ مِنْ أَهْلِ الْمَوْصِلِ ، وَلَكِنِّي سُبِيتُ غُلَامًا صَغِيرًا قَدْ عَقَلْتُ أَهْلِي وَقَوْمِي ، وَأَمَّا قَوْلُكَ فِي الطَّعَامِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " أَطْعِمِ الطَّعَامَ وَرُدَّ السَّلَامَ " . فَذَلِكَ الَّذِي يَحْمِلُنِي عَلَى أَنْ أُطْعِمَ الطَّعَامَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤حمزہ بن صہیب بیان کرتے ہیں : سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ابویحیی کنیت اختیار کرتے تھے اور ان کا یہ کہنا تھا کہ ان کا تعلق عربوں سے ہے ، اور وہ بہت زیادہ کھانا کھلایا کرتے تھے ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے صہیب ! کیا وجہ ہے کہ تم ابویحیی کنیت اختیار کرتے ہو حالانکہ تمہاری کوئی اولاد نہیں ہے ، اور تم یہ کہتے ہو کہ تمہارا تعلق عربوں سے ہے ، اور تم بہت زیادہ کھانا بھی کھلاتے ہو یہ ، تو مال میں اسراف کے مترادف ہے ، تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ابویحیی رکھی تھی جہاں تک نسب کے بارے میں آپ کے قول کا تعلق ہے ، تو میرا تعلق نمر بن قاصد سے ہے جو اہل موصل سے ہیں لیکن مجھے کمسنی میں غلام بنا لیا گیا تھا ، لیکن مجھے اس وقت بھی مجھے اپنے اہل خانہ اور اپنی قوم کی سمجھ بوجھ تھی جہاں تک کھانے سے متعلق آپ کے قول کا تعلق ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” کھانا کھلاؤ اور سلام کا جواب دو “ ۔ تو یہ چیز مجھے اس بات کی طرف ترغیب دیتی ہے کہ میں کھانا کھلاؤں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔