مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِيلَاءِ . باب: ایلاء کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَنَّ ابْنَ عَمٍّ لَهُ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ عَشَرَةَ أَيَّامٍ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَدِمَ وَقَدْ مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَوَقَعَ بِأَهْلِهِ ، فَلَقِيَ رُجَلًا فَذَكَّرَهُ يَمِينَهُ ، فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ ، فَأَحْلَفَهُ بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مَا عَلِمْتُ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَحْلَفَهَا بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مَا عَلِمَتْ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَخَطَبَهَا إِلَى نَفْسِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَ [ وَبَرَةُ بْنُ ] عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ مُدَلِّسٌ . ¤عبدالرحمن بن اسود بیان کرتے ہیں : ان کے ایک چازاد نے اپنی بیوی سے دس دن کے لئے ایلاء کر لیا پھر وہ کہیں ۔ چلا گیا جب وہ واپس آیا تو اس دوران چار ماہ دس دن گزر چکے تھے اس نے اس دوران اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی پھر اس کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی اس شخص نے اسے اس کی قسم یاد دلوائی ، تو وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے حلف لیا کہ مجھے اس بات کا علم نہیں تھا پھر انہوں نے اس کی بیوی کو پیغام بھیجا اور اس سے بھی اللہ کے نام کا حلف لیا کہ اسے بھی اس بارے میں علم نہیں تھا پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس عورت کو نئے سرے سے شادی کا پیغام دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور وبرہ بن عبدالرحمن نامی شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اور لیث بن ابوسلیم نامی راوی مدلس ہے ۔