عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ : كَانَتْ حَبِيبَةُ [ بِنْتُ سَهْلٍ ] تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ الْأَنْصَارِيِّ فَكَرِهَتْهُ ، وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا ، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لِأَرَاهُ فَلَوْلَا مَخَافَةُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَبَزَقْتُ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ الَّتِي أَصْدَقَكِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ، فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ خُلْعٍ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حبیبہ بنت سہل نامی خاتون سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں وہ خاتون انہیں ناپسند کرتی تھیں کیونکہ وہ ایک بدصورت شخص تھے وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بولیں میں نے انہیں دیکھا ہے اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو میں نے ان کے چہرے پر تھوک دینا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اسے اس کا باغ واپس کر دو گی جو اس نے تمہیں مہر میں دیا ہے اس خاتون نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو بلوایا اس خاتون نے ان کا باغ ان صاحب کو واپس کر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی یہ اسلام میں ہونے والا سب سے پہلا خلع تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔