وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ شِمَاسٍ ، وَهُوَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ كَلَامًا كَأَنَّهَا كَرِهَتْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى ثَابِتٍ : " خُذْ مِنْهَا ذَلِكَ " أَحْسَبُهُ قَالَ : " وَطَلِّقْهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ثابت بن شماس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ آئیں ، وہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ ہیں ، وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے کوئی کلام کیا جس میں اس نے سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو ناپسند کرنے کا اظہار کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس کا باغ اسے واپس کر دو گی اس نے جواب دیا : جی ہاں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور فرمایا اس سے وہ باغ وصول کر لو ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ) اور اسے طلاق دیدو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجعفر رازی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔