حدیث نمبر: 7787
عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَا : مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابٌ لَهُ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى انْطَلَقْنَا إِلَى حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ : الشَّوْطُ ، حَتَّى إِذَا انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطَيْنِ مِنْهُمَا جَلَسْنَا بَيْنَهُمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْلِسُوا " وَدَخَلَ هُوَ وَأَتَى بِالْجَوْنِيَّةِ ، فَعُزِلَتْ فِي بِيتِ [ فِي النَّخْلِ ] أُمَيْمَةَ ابْنَةِ النُّعْمَانِ بْنِ شُرَحْبِيلَ وَمَعَهَا دَايَةٌ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَبِي لِي نَفْسَكِ " قَالَتْ : وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ ؟ قَالَ أَبِي : وَقَالَ غَيْرُ أَبِي حُمَيْدٍ : امْرَأَةٌ مِنْ بَنِيَ الْجَوْنِ ، يُقَالُ لَهَا أُمَيْمَةُ قَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، قَالَ : " لَقَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ " ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ : " يَا أَبَا أُسَيْدٍ اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي أُسَيْدٍ وَحْدَهُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ اور سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے آپ کے ساتھ آپ کے کچھ اصحاب بھی تھے ہم لوگ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم ایک باغ میں آ گئے جس کا نام شوط تھا یہاں تک کہ ہم دو دیواروں کے درمیان آ کر بیٹھ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ بیٹھے رہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ جونیہ خاتون کے پاس تشریف لے گئے جسے اس باغ میں موجود ایک گھر میں رکھا گیا تھا ان کا نام امیمہ بنت نعمان بن شرحبیل تھا ان کے ساتھ ایک دایا بھی تھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس خاتون کے پاس تشریف لائے ، اور آپ آپ نے فرمایا : تم اپنا آپ مجھے ہبہ کر دو تو اس خاتون نے کہا: کیا کوئی ملکہ اپنی ذات عام لوگوں کو ہبہ کرتی ہے راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ اس خاتون کا تعلق بنو جون سے تھا ، اور ان کا نام امیمہ تھا ، اور اُس خاتون نے یہ کہا: تھا : میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے ایک زبردست پناہ حاصل کر لی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہمارے پاس تشریف لے آئے ، اور آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابواسید ! اسے دو لباس فراہم کر دو اور اسے اس کے گھر والوں کے پاس چھوڑ آؤ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7787
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (498/3)»