مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابُ مُتْعَةِ الطَّلَاقِ . باب: طلاق کے ساتھ سازوسامان دینا
وَعَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ : كَانَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ خَلِيفَةَ الْخَثْعَمِيَّةُ عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فَلَمَّا أُصِيبَ عَلِيٌّ وَبُويِعَ لِلْحَسَنِ بِالْخِلَافَةِ دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : لِيَهْنِكَ الْخِلَافَةُ ، فَقَالَ لَهَا : أَتُظْهِرِينَ الشَّمَاتَةَ بِقَتْلِ عَلِيٍّ ، انْطَلِقِي فَأَنْتَ طَالِقٌ ثَلَاثًا ، فَتَقَنَّعَتْ بِسَلَعٍ لَهَا ، وَجَلَسَتْ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ وَقَالَتْ : أَمَا وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ مَا ذَهَبْتَ إِلَيْهِ ، فَأَقَامَتْ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ، ثُمَّ تَحَوَّلَتْ عَنْهُ ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا بِبَقِيَّةٍ بَقِيَتْ لَهَا مِنْ صَدَاقِهَا عَلَيْهِ وَبِمُتْعَةٍ عَشَرَةِ آلَافٍ فَلَمَّا جَاءَهَا الرَّسُولُ بِذَلِكَ قَالَتْ : ¤ مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ . ¤ فَلَمَّا رَجَعَ الرَّسُولُ إِلَى الْحَسَنِ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَتْ بَكَى الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَقَالَ : لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ جَدِّي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّي أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا عِنْدَ الْأَقْرَاءِ أَوْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا مُبْهَمَةً ، لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " لَرَاجَعْتُهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي رِجَالِهِ ضَعْفٌ ، وَقَدْ وُثِّقُوا . ¤سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں : عائشہ بنت خلیفہ خثعمیہ ، سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں ، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ، اور سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت کے لئے بیعت کر لی گئی اس کے بعد وہ اس خاتون کے پاس تشریف لائے ، تو انہوں نے کہا: آپ کو خلافت کی مبارک ہو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے اس خاتون سے کہا: کیا تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے حوالے سے شماتت ظاہر کر رہی ہو تم چلی جاؤ تمہیں تین طلاقیں ہیں ، تو اس خاتون نے چادر اوڑھی اور گھر کے کونے میں بیٹھ گئیں ، اس خاتون نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے وہ مراد نہیں لی تھی جس کی طرف آپ گئے ہیں پھر وہ عورت ٹھہری رہی یہاں تک کہ جب اس کی عدت ختم ہو گئی ، تو وہ ان کے گھر سے چلی گئیں اس خاتون کا جتنا مہر باقی تھا وہ امام حسن رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف بھیجوایا اور ساز و سامان کے طور پر دس ہزار ( درہم یا دینار ) بھی بھجوائے ، جب قاصد اس خاتون کے پاس وہ چیزیں لے کے آیا تو اس خاتون نے کہا: ” جدا ہونے والے محبوب کے مقابلے میں یہ تھوڑا سا ساز و سامان ہے “ ۔ جب قاصد سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گیا اور خاتون کی بات کے بارے میں بتایا تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا اگر میں نے اپنے نانا اللہ کے رسول کو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اگر میں نے اپنے والد کو میرے نانا کے حوالے سے
یہ روایت بیان کرتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص قروء کے وقت اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدے یا تین مبہم طلاقیں دیدے ، تو وہ عورت اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک کسی دوسرے کے ساتھ شادی ( کرنے کے بعد بیوہ یا طلاق یافتہ نہیں ہو جاتی “ ۔ ( امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر ایسا نہ ہوتا ) تو میں نے اس عورت سے رجوع کر لینا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔