حدیث نمبر: 7786
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : ضَرَبَ الزُّبَيْرُ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ فَصَاحَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَأَقْبَلَ ، فَلَمَّا رَآهُ قَالَ : أُمُّكَ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتَ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : أَتَجْعَلُ أُمِّي عُرْضَةً لِيَمِينِكَ ، فَاقْتَحَمَ عَلَيْهِ ، فَخَلَّصَهَا ، فَبَانَتْ مِنْهُ ، قَالَ : وَلَقَدْ كُنْتُ غُلَامًا رُبَّمَا أَخَذْتُ بِشَعْرِ مَنْكِبَيِ الزُّبَيْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سیدہ اسما بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کی پٹائی کر رہے تھے ، تو انہوں نے بلند آواز میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو پکارا وہ آئے ، جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو کہا: اگر تم اندر آئے ، تو تمہاری ماں کو طلاق ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ میری ماں کو اپنی قسم کا ذریعہ بنا رہے ہیں پھر وہ اندر داخل ہوئے ، اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کو چھڑا لیا تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا اپنے شوہر سے الگ ہو گئیں راوی کہتے ہیں : میں ان دنوں کمسن لڑکا تھا ، اور بعض اوقات سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے کندھوں کے بال پکڑ لیا کرتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7786
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (234)»