مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابُ أَلْفَاظِ الطَّلَاقِ . باب: طلاق کے الفاظ کا بیان
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ عُبَادَةَ أَيْضًا قَالَ : طَلَّقَ بَعْضُ آبَائِي امْرَأَةً أَلْفًا فَانْطَلَقَ بَنُوهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَانَا طَلَّقَ أُمَّنَا أَلْفًا ، فَهَلْ لَهُ مِنْ مَخْرَجٍ ؟ قَالَ : " إِنَّ أَبَاكُمْ لَمْ يَتَّقِ اللَّهَ - تَعَالَى - فَيَجْعَلَ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ مَخْرَجًا بَانَتْ مِنْهُ بِثَلَاثٍ عَلَى غَيْرِ السُّنَّةِ وَتِسْعُمِائَةٍ وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ إِثْمٌ فِي عُنُقِهِ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ الْعِجْلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ایک روایت میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے یہ الفاظ منقول ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میرے بڑوں میں سے ایک نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دیدیں ان کے بیٹے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : ہمارے والد نے ہماری والدہ کو ایک ہزار طلاقیں دیدی ہیں ، تو کیا کوئی گنجائش ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا باپ اللہ تعالیٰ سے ڈرا نہیں ورنہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے کوئی گنجائش پیدا کر دیتا تین طلاقوں کی بنیاد پر وہ عورت اس شخص سے الگ ہو گئی ہے ، اور یہ سنت کے خلاف ہے ، اور نو سو ستانوے طلاقیں اس شخص کی گردن میں گناہ ہیں ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید و صافی عجلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔