مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ طَلَّقَ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثٍ . باب: اس شخص کا بیان ، جو تین سے زیادہ طلاقیں دے دیتا ہے
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : جَاءَ ابْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي تِسْعًا وَتِسْعِينَ ، وَإِنِّي سَأَلْتُ فَقِيلَ : قَدْ بَانَتْ مِنِّي ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : قَدْ أَحَبُّوا أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا ، قَالَ : فَمَا تَقَوُّلُ - رَحِمَكَ اللَّهُ ؟ فَظَنَّ أَنَّهُ سَيُرَخِّصُ لَهُ ، فَقَالَ : ثَلَاثٌ تُبِينُهَا مِنْكَ وَسَائِرُهُنَّ عُدْوَانٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤علقمہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: میں نے اپنی بیوی کو ننانوے طلاقیں دیدی ہیں میں نے اس بارے میں دریافت کیا ، تو مجھے بتایا گیا کہ وہ عورت مجھ سے جدا ہو چکی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ تمہارے اور اس درمیان کے علیحدگی کروا دیں اس شخص نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے پھر آپ کیا کہتے ہیں ؟ وہ شخص یہ سمجھا کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ شاید اسے رخصت دیدیں گے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تین طلاقوں کی بنیاد پر وہ عورت تم سے الگ ہو گئی اور باقی تمام سرکشی شمار ہوں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔