حدیث نمبر: 7774
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : إِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ : أَمْرُكِ بِيَدِكِ أَوِ اسْتَفْتِحِي بِأَمْرِكِ أَوْ وَهَبَهَا لِأَهْلِهَا فَقَبِلُوهَا فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب آدمی اپنی بیوی سے یہ کہے : تمہارا معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے یا تم اپنے معاملے کو کھول دو یا وہ اس عورت کو اس کے اہل خانہ کو ہبہ کر دے اور وہ لوگ اسے قبول بھی کر لیں ، تو یہ ایک بائنہ طلاق ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7775
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : فِي الْمَوْهُوبَةِ : إِنْ قَبِلُوهَا فَهِيَ وَاحِدَةٌ ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ، وَإِنْ لَمْ يَقْبَلُوهَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہبہ کی جانے والی عورت کے بارے میں یہ فرماتے ہیں : اگر اس کے گھر والے اسے قبول کر لیتے ہیں ، تو یہ ایک طلاق شمار ہو گی مرد اس عورت کا زیادہ حق رکھتا ہو گا ، اور اگر وہ اس عورت کو قبول نہیں کرتے ہیں ، تو پھر اس کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7776
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : فِي الْحَرَامِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ . . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حرام قرار دینا اس میں قسم ، توڑنے کا کفارہ لازم ہو گا ۔
حدیث نمبر: 7777
وَفِي رِوَايَةٍ : هِيَ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” یہ قسم ہے جس کا آدمی کفارہ دے گا “ ۔
حدیث نمبر: 7778
وَفِي رِوَايَةٍ : إِنْ كَانَ نَوَى طَلَاقًا ، وَإِلَّا فَهِيَ يَمِينٌ . ¤ رَوَاهَا كُلَّهَا الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ مُجَاهِدًا لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اگر اس نے طلاق کی نیت کی تھی ، تو ویسا ہی ہو گا ورنہ یہ قسم شمار ہو گی “ ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ مجاہد نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 7779
وَعَنِ الضَّحَّاكِ أَنَّ عُمَرَ وَابْنَ مَسْعُودٍ قَالَا : فِي الْحَرَامِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جُوَيْبِرٌ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَالضَّحَّاكُ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ضحاک بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حرام قرار دینے کے بارے میں یہ فرماتے ہیں : اس میں قسم کا کفارہ لازم ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جویبر ہے ، اور وہ متروک ہے ضحاک نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جویبر ہے ، اور وہ متروک ہے ضحاک نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 7780
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ وَامْرَأَتُهُ ، فَقَالَ : امْرَأَتِي طَلَّقْتُهَا ، ثُمَّ رَاجَعْتُهَا فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : أَمَّا إِنْ لَمْ يَحْمِلْنِي الَّذِي كَانَ مِنْكَ أَنْ أُحَدِّثَ الْأَمْرَ عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ عُمَرُ : حَدِّثِي ، فَقَالَتْ : طَلَّقَنِي ، ثُمَّ تَرَكَنِي حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ ثَلَاثِ حِيَضٍ ، وَانْقَطَعَ عَنِّي الدَّمُ وَضَعْتُ غُسْلِي وَرَدَدْتُ بَابِي فَنَزَعْتُ ثِيَابِي فَقَرَعَ الْبَابَ ، وَقَالَ : قَدْ رَاجَعْتُكِ قَدْ رَاجَعْتُكِ فَتَرَكْتُ غُسْلِي وَلَبِسْتُ ثِيَابِي فَقَالَ عُمَرُ : مَا تَقُولُ فِيهَا يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ؟ فَقُلْتُ : أَرَاهُ أَحَقَّ بِهَا مَا دُونَ أَنْ تَحِلَّ لَهَا الصَّلَاةُ ، فَقَالَ عُمَرُ : نِعْمَ مَا رَأَيْتَ ، وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ایک شخص اور اس کی بیوی ان کے پاس آئے اس شخص نے کہا: میں نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی تھی پھر میں نے اس سے رجوع کر لیا ہے اس عورت نے کہا: اگر آپ مجھے اجازت دیں ، تو میں آپ کو اصل صورت حال کے بارے میں بتاتی ہوں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم بیان کرو اس عورت نے کہا: اس شخص نے مجھے طلاق دیدی پھر اس نے مجھے ایسے ہی چھوڑ دیا یہاں تک کہ تین حیضوں کا آخری حصہ آ گیا اور میرا ( تیسرے حیض کا ) خون آنا بند ہو گیا میں نے غسل کا پانی رکھ دیا دروازہ بند کر دیا اور اپنے کپڑے اتار لیے ، تو اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور یہ کہا: میں نے تم سے رجوع کر لیا ہے میں نے تم سے رجوع کر لیا ہے ، تو میں نے غسل کو ترک کر دیا اور میں نے کپڑے پہن لئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابن ام عبد ! تم اس کے بارے میں کیا کہتے ہو میں نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ مرد اس عورت کا زیادہ حق رکھتا ہے ۔ اس سے پہلے کے عورت کے لئے نماز پڑھنا حلال ہو ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری رائے اچھی ہے میں بھی یہی سمجھتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7781
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلَى أَبِي يَسْأَلُهُ عَنْهَا ، فَقَالَ أَبِي : كَيْفَ تُفْتِي مُنَافِقًا ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ : نُعِيذُكَ بِاللَّهِ أَنْ تَكُونَ مُنَافِقًا ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ يَكُونَ مِثْلُ هَذَا فِي الْإِسْلَامِ ، ثُمَّ تَمُوتُ ، وَلَمْ تُبَيِّنْهُ قَالَ : فَإِنِّيأَرَى أَنَّهُ أَحَقُّ بِهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ ، وَقَدْ حَلَّ لَهَا الصَّلَاةُ قَالَ : فَلَا أَعْلَمُ عُثْمَانَ إِلَّا أَخَذَ بِذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ رَفِيعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے میرے والد کو پیغام بھیج کر یہ دریافت کیا ، تو میرے والد نے کہا: آپ ایک منافق شخص کو کیسے فتوی دے رہے ہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم آپ کو اس بات سے اللہ کی پناہ میں دیتے ہیں کہ آپ منافق بن جائیں اور ہم اس بات سے بھی اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ اسلام میں اس طرح کی صورت حال ہو اور پھر آپ کا انتقال ہو جائے ، اور آپ نے اسے بیان ہی نہ کیا ہو ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ مرد اس عورت کا اس وقت تک حق رکھتا ہو گا ، جب تک وہ تیسرے حیض کے بعد غسل نہیں کر لیتی اور اس کے لئے نماز پڑھنا حلال نہیں ہو جاتا ۔ راوی کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس قول کو اختیار کر لیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زید بن رفیع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ابوعبیدہ نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زید بن رفیع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ابوعبیدہ نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 7782
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : طَلَّقَ جَدِّي امْرَأَةً لَهُ أَلْفَ تَطْلِيقَةٍ فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ : " أَمَا اتَّقَى اللَّهَ جَدُّكَ أَمَّا ثَلَاثَةٌ فَلَهُ ، وَأَمَّا تِسْعُمِائَةٍ وَسَبْعَةٌ وَتِسْعُونَ فَعُدْوَانٌ وَظُلْمٌ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَذَّبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے دادا نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دیدیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہارا دادا اللہ تعالیٰ سے ڈرتا نہیں ہے جہاں تک تین طلاقوں کا تعلق ہے ، تو اس کا اسے حق ہو گا ( یا اس کی طرف سے تین طلاقیں ہو گئیں ) اور جہاں تک نو سو ستانوے طلاقوں کا تعلق ہے ، تو یہ سرکشی اور ظلم ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا ، تو اسے عذاب دے گا ، اور اگر چاہے گا ، تو اس کی مغفرت کر دے گی ۔
حدیث نمبر: 7783
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ عُبَادَةَ أَيْضًا قَالَ : طَلَّقَ بَعْضُ آبَائِي امْرَأَةً أَلْفًا فَانْطَلَقَ بَنُوهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَانَا طَلَّقَ أُمَّنَا أَلْفًا ، فَهَلْ لَهُ مِنْ مَخْرَجٍ ؟ قَالَ : " إِنَّ أَبَاكُمْ لَمْ يَتَّقِ اللَّهَ - تَعَالَى - فَيَجْعَلَ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ مَخْرَجًا بَانَتْ مِنْهُ بِثَلَاثٍ عَلَى غَيْرِ السُّنَّةِ وَتِسْعُمِائَةٍ وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ إِثْمٌ فِي عُنُقِهِ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ الْعِجْلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے یہ الفاظ منقول ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میرے بڑوں میں سے ایک نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دیدیں ان کے بیٹے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : ہمارے والد نے ہماری والدہ کو ایک ہزار طلاقیں دیدی ہیں ، تو کیا کوئی گنجائش ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا باپ اللہ تعالیٰ سے ڈرا نہیں ورنہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے کوئی گنجائش پیدا کر دیتا تین طلاقوں کی بنیاد پر وہ عورت اس شخص سے الگ ہو گئی ہے ، اور یہ سنت کے خلاف ہے ، اور نو سو ستانوے طلاقیں اس شخص کی گردن میں گناہ ہیں ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید و صافی عجلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔