حدیث نمبر: 7781
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلَى أَبِي يَسْأَلُهُ عَنْهَا ، فَقَالَ أَبِي : كَيْفَ تُفْتِي مُنَافِقًا ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ : نُعِيذُكَ بِاللَّهِ أَنْ تَكُونَ مُنَافِقًا ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ يَكُونَ مِثْلُ هَذَا فِي الْإِسْلَامِ ، ثُمَّ تَمُوتُ ، وَلَمْ تُبَيِّنْهُ قَالَ : فَإِنِّيأَرَى أَنَّهُ أَحَقُّ بِهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ ، وَقَدْ حَلَّ لَهَا الصَّلَاةُ قَالَ : فَلَا أَعْلَمُ عُثْمَانَ إِلَّا أَخَذَ بِذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ رَفِيعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین

ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے میرے والد کو پیغام بھیج کر یہ دریافت کیا ، تو میرے والد نے کہا: آپ ایک منافق شخص کو کیسے فتوی دے رہے ہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم آپ کو اس بات سے اللہ کی پناہ میں دیتے ہیں کہ آپ منافق بن جائیں اور ہم اس بات سے بھی اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ اسلام میں اس طرح کی صورت حال ہو اور پھر آپ کا انتقال ہو جائے ، اور آپ نے اسے بیان ہی نہ کیا ہو ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ مرد اس عورت کا اس وقت تک حق رکھتا ہو گا ، جب تک وہ تیسرے حیض کے بعد غسل نہیں کر لیتی اور اس کے لئے نماز پڑھنا حلال نہیں ہو جاتا ۔ راوی کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس قول کو اختیار کر لیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زید بن رفیع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ابوعبیدہ نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7781
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف