مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابُ طَلَاقِ السُّنَّةِ وَكَيْفَ الطَّلَاقُ . باب: طلاق کا سنت طریقہ اور طلاق کیسے دی جائے ؟
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِامْرَأَتِهِ : " قَدْ طَلَّقْتُكِ قَدْ رَاجَعْتُكِ لَيْسَ هُوَ طَلَاقُ الْمُسْلِمِينَ طَلِّقُوا الْمَرْأَةَ فِي قُبُلِ طُهْرِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَهَذَا لَفْظُهُ ، وَالْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ : بَلَغَ أَبَا مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضِبَ عَلَى الْأَشْعَرِيِّينَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبْلِغْتُ أَنَّكَ غَضِبْتَ عَلَى الْأَشْعَرِيِّينَ ؟ قَالَ : " أَجَلْ إِنَّ أَحَدَهُمْ يَقُولُ : قَدْ نَكَحْتُ قَدْ طَلَّقْتُ " فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی بیوی سے یہ کہنا : میں نے تمہیں طلاق دی میں نے تم سے رجوع کر لیا ( اس طرح کے کلمات استعمال کرنا ) مسلمانوں کا طلاق دینے کا طریقہ نہیں ہے تم لوگ عورت کو اس کے ظہر کے آغاز میں طلاق دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ یہ الفاظ ان کے ہیں اور معجم کبیر میں بھی نقل کی ہے ۔ تا ہم انہوں نے یہ کہا: ہے کہ یہ حمید بن عبدالرحمن خمیری کے حوالے سے منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ نبی اکرم نے اشعر قبیلے کے لوگوں پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ آپ نے اشعر قبیلے کے لوگوں پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک شخص یہ کہتا ہے کہ میں نے نکاح کر لیا میں نے طلاق دیدی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔