مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُكْثِرُ الطَّلَاقَ وَسَبَبِ الطَّلَاقِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو بکثرت طلاق دیتا ہے ، اور طلاق کے سبب کا بیان
حدیث نمبر: 7764
وَعَنْ مُحَمَّدٍ - يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ - قَالَ : خَطَبَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَى مَنْصُورِ بْنِ سَيَّارِ بْنِ رَيَّانَ الْفَزَارِيِّ ابْنَتَهُ فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُنْكِحُكَ ، وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ عَلِقٌ طَلِقٌ مَلِقٌ غَيْرَ أَنَّكَ أَكْرَمُ الْعَرَبِ بَيْتًا وَأَكْرَمُهُ نَسَبًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے منصور بن سیار بن ریان فزاری سے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا ، تو اس نے کہا: میں اللہ کی قسم ! ( اپنی بیٹی کی ) شادی نہیں کرواؤں گا کیونکہ میں یہ بات جانتا ہوں کہ آپ خواتین ( کے ساتھ شادی ) میں دلچسپی رکھتے ہیں ، ( اکثر اوقات ، اپنی ازواج کو ) طلاق دیدیتے ہیں ، اور شادی کرنے کے بعد ، اپنی بیویوں سے ) علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں ، البتہ یہ ہے کہ عربوں میں ، آپ سب سے زیادہ معزز گھرانے کے مالک ہیں اور نسب کے اعتبار سے سب سے زیادہ معزز ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔