مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ النُّشُوزِ . باب: ( عورت کا شوہر کی ) نافرمانی کرنا
وَعَنِ الْأَعْشَى الْمَازِنِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْشَدْتُهُ : ¤ يَا مَالِكَ النَّاسِ وَدَيَّانَ الْعَرَبْ إِنِّي لَقِيتُ ذِرْبَةً مِنَ الذِّرَبِ . ¤ غَدَوْتُ أَبْغِيهَا الطَّعَامَ فِي رَجَبْ ¤ فَخَلَّفَتْنِي بِنِزَاعٍ وَهَرَبْ . ¤ أَخْلَفَتِ الْعَهْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ ¤ وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ . ¤ قَالَ : فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ [ عِنْدَ ذَلِكَ ] : " وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبَ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا اعشی مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو یہ اشعار سنائے : ” اے لوگوں کے سردار ، اور عربوں کے آقا ، میں نے ایک زیادتی کا سامنا کیا ہے ، میں رجب کے مہینے میں اناج حاصل کرنے کے لیے نکلا تھا ، تو اس نے میری غیر موجودگی میں زیادتی کی اور بھاگ گئی ، اس نے عہد کی خلاف ورزی کی اور روپوش ہو گئی “ ( یہ عورتیں ) مغلوب شخص کے لیے غالب آنے والی سب سے بری چیز ہیں “ ۔ راوی کہتے ہیں : تو اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہنا شروع کیا ، ( یعنی یہ الفاظ ، دہرائے : ) ” ( یہ عورتیں ) مغلوب شخص کے لیے ، غالب آنے والی سب سے بری چیز ہیں “ ۔
یہ روایت أحمد بن عبداللہ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔