مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ الْغَيْرَةِ . باب: غیرت ( مزاج کی تیزی ) کا بیان
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَيْرَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ يُحِبُّهَا اللَّهُ ، وَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ يُبْغِضُهَا اللَّهُ ، وَمَخِيلَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْمَخِيلَةُ إِذَا تَصَدَّقَ الرَّجُلُ يُحِبُّهَا اللَّهُ ، وَالْمَخِيلَةُ فِي الْكِبْرِ يُبْغِضُهَا اللَّهُ " وَقَالَ : " ثَلَاثٌ مُسْتَجَابٌ لَهُمْ دَعْوَتُهُمُ الْمُسَافِرُ وَالْوَالِدُ وَالْمَظْلُومُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” غیرت دو قسم کی ہوتی ہے ان میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ، اور دوسری کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے وہ غیرت جو ” ریبہ “ کے بارے میں ہو ( مراد یہ ہے کہ آدمی کسی حرام چیز پر غصہ کا اظہار کر کے ) اسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ، اور وہ غیرت جو ” ریبہ “ کے بارے میں نہ ہو ( مراد یہ ہے کہ آدمی کسی حلال چیز پر غصہ کا اظہار کر کے ) اسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ، اور خود پسندی دو قسم کی ہوتی ہے ، ان میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ، اور دوسری کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ، جب کوئی شخص صدقہ کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے پسند کرتا ہے ، اور جو خود پسندی ، تکبر کے طور پر ہو ، اللہ تعالی اسے ناپسند کرتا ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : ” تین قسم کے لوگوں کی دعا مستجاب ہوتی ہے ، مسافر ، والد اور مظلوم ( شخص ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔