حدیث نمبر: 7729
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلًا أَنْتَظِرُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةٍ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " قَالَ : لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَوْ رَأَيْتُهُ لَعَاجَلْتُهُ بِالسَّيْفِ ، فَقَالَ : " انْظُرُوا يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ إِنَّ سَعْدًا لَغَيُورٌ ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر الزام لگاتے ہیں اور پھر وہ چار گواہ نہیں لے کر آتے ہیں “ ۔ تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں کسی شخص کو دیکھوں ، تو کیا میں اس بات کا انتظار کروں گا کہ پہلے چار گواہ لے کے آؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : جی ہاں ، تو انہوں نے کہا: جی نہیں اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اگر میں ایسے شخص کو دیکھوں گا ، تو میں اسے تلوار کے ذریعے قتل کر دوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! دیکھو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ سعد غیور ہے ، اور میں اس سے زیادہ غیور ہوں ، اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7729
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح