مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْخَلْوَةِ بِغَيْرِ مَحْرَمٍ . باب: محرم کے بغیر خلوت کی ممانعت
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِيَّاكَ وَالْخَلْوَةَ بِالنِّسَاءِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَلَا رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا دَخَلَ الشَّيْطَانُ بَيْنَهُمَا وَلَأَنْ يَزْحَمَ رَجُلٌ خِنْزِيرًا مُتَلَطِّخًا بِطِينٍ أَوْ حَمْأَةٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَزْحَمَ مَنْكِبُهُ مَنْكِبَ امْرَأَةٍ لَا تَحِلُّ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( نامحرم ) خواتین کے پاس خلوت میں جانے سے بچو اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جب کوئی شخص ( کسی نامحرم ) عورت کے ساتھ خلوت میں ہوتا ہے ، تو شیطان ان دونوں کے درمیان داخل ہوتا ہے ، اور آدمی ایسے خنزیر کے ساتھ لگ جائے کہ جو مٹی یا کیچڑ میں لت پت ہو ، یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ اس کا کندھا کسی ایسی عورت کے کندھے سے چھو جائے جو اس کے لئے حلال نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔