مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِسْلَامِ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ . باب: اسلام اپنے سے پہلے کے امور پر غالب آجاتا ہے
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ : أَقْبَلَ شَيْخٌ يَدَّعِمُ عَلَى عَصًا حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّ لِي غَدَرَاتٍ وَفَجَرَاتٍ ، فَهَلْ يُغْفَرُ لِي ؟ قَالَ : " أَلَيْسَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " فَقَدْ غُفِرَ لَكَ غَدَرَاتُكَ وَفَجَرَاتُكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ مَكْحُولٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، فَلَا أَدْرِي أَسَمِعَ مِنْهُ أَمْ لَا . ¤سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک بوڑھا شخص عصا کے سہارے چلتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اُس نے کہا: اے اللہ کے نبی ! میری کچھ عہد شکنیاں ہیں اور کچھ زیادتیاں ہیں ، کیا میری مغفرت ہو جائے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اس نے جواب دیا : جی ہاں اور میں یہ گواہی بھی دیتا ہوں ، کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری عہد شکنیوں اور زیادتیوں کی مغفرت ہو چکی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم اسے مکحول نے ، سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، مجھے ( یعنی علامہ ہیثمی کو ) نہیں معلوم کہ مکحول نے ، اُن سے سماع کیا ہے یا نہیں ؟