حدیث نمبر: 76
وَعَنْ أَبِي طَوِيلٍ شَطْبٍ الْمَمْدُودِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَرَأَيْتَ مَنْ عَمِلَ الذُّنُوبَ كُلَّهَا فَلَمْ يَتْرُكْ مِنْهَا شَيْئًا وَهُوَ فِي ذَلِكَ لَمْ يَتْرُكْ حَاجَةً وَلَا دَاجَةً إِلَّا أَتَاهَا فَهَلْ لِذَلِكَ مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : " فَهَلْ أَسْلَمْتَ ؟ " قَالَ : أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ [ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ] وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : [ نَعَمْ ] " تَفْعَلُ الْخَيْرَاتِ وَتَتْرُكُ السَّيِّئَاتِ فَيَجْعَلُهُنَّ اللَّهُ لَكَ خَيْرَاتٍ كُلَّهُنَّ " ، قَالَ : وَغَدَرَاتِي وِفَجَرَاتِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ . فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ حَتَّى تَوَارَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ أَبِي نَشِيطٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ أَنَسٍ فِي فَضْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي الْأَذْكَارِ . ¤
محمد محی الدین

حضرت ابوطویل شطب الحمدود کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جس نے ہر قسم کے گناہوں کا ارتکاب کیا ہو ، اُن میں سے کوئی بھی گناہ ترک نہ کیا ہو ، اور اس نے ہر قسم کی برائی کا ارتکاب کیا ہو ، تو کیا اس شخص کے لیے توبہ کی گنجائش ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اسلام قبول کر لیا ہے ؟ اُن صاحب نے کہا: جہاں تک میرا تعلق ہے ، تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے اب تم نیکیاں کرتے رہنا اور برائیاں چھوڑ دینا ، تو اللہ تعالیٰ اُن سب برائیوں کو تمہارے لئے نیکیاں بنا دے گا ، اس نے دریافت کیا : میری عہد شکنیوں اور زیادتیوں کو بھی ( اللہ تعالیٰ نیکیوں میں تبدیل کر دے گا ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اُس نے کہا: اللہ اکبر ! اُس کے بعد وہ مسلسل تکبیر کہتا رہا ، یہاں تک کہ وہ ( ہماری نگاہوں سے ) اوجھل ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن ہارون ابونشیط کا معاملہ مختلف ہیں ، ویسے وہ ثقہ ہے ۔
( علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : لا الہ الا اللہ کی فضیلت کے بارے میں ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث اذکار سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 76
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7235»