حدیث نمبر: 7681
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِسَاءَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَدِيثًا فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّ الْحَدِيثَ حَدِيثُ خُرَافَةَ فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا خُرَافَةُ ؟ إِنَّ خُرَافَةَ كَانَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ عُذْرَةَ أَسَرَتْهُ الْجِنُّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَكَثَ فِيهِمْ دَهْرًا طَوِيلًا ، ثُمَّ رَدُّوهُ إِلَى الْإِنْسِ فَكَانَ يُحَدِّثُ النَّاسَ بِمَا رَأَى فِيهِمْ مِنَ الْأَعَاجِيبِ فَقَالَ النَّاسُ : حَدِيثُ خُرَافَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو ایک بات بیان کی ، تو ان ازواج میں سے ایک خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ بات ، تو خرافہ کی بات کی طرح کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ خرافہ کون ہے ؟ خرافہ عذرہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جسے زمانہ جاہلیت میں جنات نے قید کر دیا تھا وہ ایک طویل عرصے تک ان کے درمیان رہا پھر جنات نے اسے واپس انسانوں کی طرف بھیج دیا تو وہ لوگوں کو وہ باتیں بیان کیا کرتا تھا جو اس نے جنات میں عجیب و غریب چیزیں دیکھی تھیں ، تو لوگ یہ کہتے تھے کہ یہ خرافہ کی بات ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7681
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابر يعلى فى المسند (4443) اخرجه احمد فى المسند (157/6)»