مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ . باب: عورت پر شوہر کے حق کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا وَزَوْجُهَا كَارِهٌ لِذَلِكَ لَعَنَهَا كُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ ، وَكُلُّ شَيْءٍ مَرَّتْ عَلَيْهِ غَيْرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ حَتَّى تَرْجِعَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب کوئی عورت اپنے گھر سے نکلتی ہے ، اور اس کا شوہر اس بات کو ناپسند کرتا ہو ، تو آسمان میں موجود ہر فرشتہ اور ہر وہ چیز جس کے پاس سے وہ عورت گزرتی ہے وہ اس پر لعنت کرتے ہیں ، البتہ جنوں اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے ، اور ایسا اس وقت تک ہوتا ہے ، جب تک وہ واپس نہیں آ جاتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ متروک ہے دحیم اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔