حدیث نمبر: 7662
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِرِجَالِكُمْ فِي الْجَنَّةِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ وَالصِّدِّيقُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالرَّجُلُ يَزُورُ أَخَاهُ فِي نَاحِيَةِ الْمِصْرِ لَا يَزُورُهُ إِلَّا لِلَّهِ فِي الْجَنَّةِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِنِسَائِكُمْ فِي الْجَنَّةِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " كُلُّ وَدُودٍ وَلُودٍ إِذَا غَضِبَتْ أَوْ أُسِيءَ إِلَيْهَا أَوْ غَضِبَ زَوْجُهَا قَالَتْ : هَذِهِ يَدِي فِي يَدِكَ لَا أَكْتَحِلُ بِغُمْضٍ حَتَّى تَرْضَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ الْقُرَشِيُّ قَالَ الْبُخَارِيُّ : لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ ، فَإِنْ أَرَادَ تَضْعِيفَهُ فَلَا كَلَامَ ، وَإِنْ أَرَادَ حَدِيثًا مَخْصُوصًا فَلَمْ يَذْكُرْهُ ، وَأَمَّا بَقِيَّةُ رِجَالِهِ فَهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کیا میں تم لوگوں کو تمہارے ان مردوں کے بارے میں نہ بتاؤں جو جنت میں جائیں گے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نبی جنت میں جائے گا صدیق جنت میں جائے گا شہید جنت میں جائے گا مولود ( یعنی پیدا ہو کر فوت ہونے والا بچہ ) جنت میں جائے گا ، اور وہ شخص جو شہر کے کنارے پر اپنے بھائی سے ملنے کے لئے جاتا ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جاتا ہے وہ جنت میں جائے گا ، اور کیا میں تمہیں تمہاری خواتین کے بارے میں بتاؤں جو جنت میں جائیں گی ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر محبت کرنے والی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی عورت کہ جب وہ غصے میں آئے یا جب اس کے ساتھ برا سلوک کیا جائے یا جب اس کا شوہر غضبناک ہو ، تو وہ یہ کہے : یہ میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں ہے میں اس وقت تک نہیں سوؤں گی جب تک تم راضی نہیں ہو گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن زیاد قرشی ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث صحیح نہیں ہے اگر تو انہوں نے اس راوی کو ضعیف قرار دینے کا ارادہ کیا ہے ، تو پھر یہ کوئی کلام نہیں ہے ، اور اگر انہوں نے کسی مخصوص حدیث کو مراد لیا ہے ، تو انہوں نے وہ حدیث ذکر نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7662
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (118) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1764)»