حدیث نمبر: 7649
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ أَتَى الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفِهُمْ وَبَطَارِقِهِمْ وَرُهْبَانِهِمْ ، وَرَأَى الْيَهُودَ يَسْجُدُونَ لِأَحْبَارِهِمْ وَعُلَمَائِهِمْ وَفُقَهَائِهِمْ فَقَالَ : لِأَيِّ شَيْءٍ تَفْعَلُونَ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذِهِ تَحِيَّةُ الْأَنْبِيَاءِ . قُلْنَا : فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ بِنَبِيِّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَجَدَ لَهُ . فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا مُعَاذُ ؟ " قَالَ : إِنِّي أَتَيْتُ الشَّامَ فَرَأَيْتُ النَّصَارَى يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ وَقِسِّيسِيهِمْ وَرُهْبَانِهِمْ وَبَطَارِقَتِهِمْ وَرَأَيْتُ الْيَهُودَ يَسْجُدُونَ لِأَحْبَارِهِمْ وَفُقَهَائِهِمْ وَعُلَمَائِهِمْ فَقُلْتُ : لِأَيِّ شَيْءٍ تَصْنَعُونَ هَذَا وَتَفْعَلُونَ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذِهِ تَحِيَّةُ الْأَنْبِيَاءِ . قُلْتُ : فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ بِنَبِيِّنَا . فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُمْ كَذَبُوا عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ كَمَا حَرَّفُوا كِتَابَهُمْ لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا مِنْ عِظَمِ حَقِّهِ ، وَلَا تَجِدُ امْرَأَةٌ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا وَلَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ " . ¤ رَوَاهُ بِتَمَامِهِ الْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَكَذَلِكَ طَرِيقٌ مِنْ طُرُقِ أَحْمَدَ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ شام آئے وہاں انہوں نے عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے اساقف اور بطارق ( یعنی مذہبی پیشواؤں ) اور راہبوں کو سجدہ کرتے تھے اور انہوں نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے احبار اور اپنے علماء اور فقہاء کو سجدہ کرتے تھے ، تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم لوگ ایسا کیوں کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ انبیاء کو سلام کرنے کا طریقہ ہے ، تو ہم نے کہا: ہم ، تو پھر اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کریں جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے معاذ ! یہ کس وجہ سے ہے انہوں نے عرض کی : میں شام گیا وہاں میں نے عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے مذہبی پیشواؤں اور راہبوں کو سجدہ کرتے تھے اور میں نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے اکابرین فقہاء اور علماء کو سجدہ کرتے تھے میں نے دریافت کیا : تم لوگ ایسا کیوں کرتے ہو اور یہ عمل کیوں کرتے ہو ؟ تو انہوں نے بتایا یہ انبیاء کو سلام کرنے کا طریقہ ہے ، تو میں نے کہا: ، پھر ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم اپنے نبی کے ساتھ ایسا کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں نے اپنے انبیاء کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے جس طرح ان لوگوں نے اپنی کتابوں میں تحریف کر لی تھی اگر میں کسی کو کسی دوسرے کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو یہ ہدایت کرتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ اس کا حق عظیم ہے عورت ایمان کی حلاوت اس وقت تک نہیں پا سکتی جب تک اپنے شوہر کے حق کو ادا نہیں کرتی خواہ وہ شخص اس عورت سے اس کے قرب کا مطالبہ اس وقت کرے جب وہ پالان کی پشت پر بیٹھی ہوئی ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اسی طرح امام أحمد کے طرق میں ایک طریق ایسا ہی ہے ۔ امام طبرانی نے بھی اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7649
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1461) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (52/20)»