حدیث نمبر: 7644
وَعَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ فِي صَفِّ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَمِعْتُنَّ أَذَانَ هَذَا الْحَبَشِيِّ وَإِقَامَتَهُ فَقُلْنَ كَمَا يَقُولُ ، فَإِنَّ لَكُنَّ بِكُلِّ حَرْفٍ أَلْفَ أَلْفِ دَرَجَةٍ " . ¤ فَقَالَ عُمَرُ : فَهَذَا لِلنِّسَاءِ فَمَا لِلرِّجَالِ ؟ فَقَالَ : " ضِعْفَانِ يَا عُمَرُ " . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ مِنِ امْرَأَةٍ أَطَاعَتْ وَأَدَّتْ حَقَّ زَوْجِهَا وَتَذْكُرُ حُسْنَهُ ، وَلَا تَخُونُهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ إِلَّا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الشُّهَدَاءِ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، فَإِنْ كَانَ زَوْجُهَا مُؤْمِنًا حَسَنَ الْخُلُقِ فَهِيَ زَوْجَتُهُ فِي الْجَنَّةِ وَإِلَّا زَوَّجَهَا اللَّهُ مِنَ الشُّهَدَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا عَبْدُ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ عَنْ مَيْمُونَةَ ، وَفِيهِ مَنْصُورُ بْنُ سَعْدٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ كَبِيرٌ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَالْإِسْنَادُ الْآخَرُ فِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں اور خواتین کی صف میں کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا : اے خواتین کے گروہ ! جب تم اس حبشی کی اذان اور اقامت سنو تو اس کی مانند کلمات کہو جو یہ کہتا ہے ، تو تمہیں ہر ایک حرف کے عوض میں ایک ایک ہزار درجہ ملے گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یہ حکم ، تو خواتین کے لئے ہے مردوں کے لئے کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! اس کا دگنا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کی طرف متوجہ ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : جو بھی عورت اطاعت کرتی ہے ، اور اپنے شوہر کے حق کو ادا کرتی ہے ، اور اس کی اچھائی کو یاد رکھتی ہے ، اور اپنی جان اور اس کے مال کے بارے میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کرتی ہے ، تو جنت میں اس عورت اور شہداء کے درمیان ایک درجہ کا فرق ہو گا ، اگر اس کا شوہر مومن ہوا اور اچھے اخلاق کا مالک ہوا تو وہ جنت میں بھی اس کی بیوی ہو گی ورنہ اللہ تعالیٰ اس عورت کی شادی شہداء میں سے کسی کے ساتھ کر دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ان دونوں میں سے ایک میں یہ بات مذکور ہے کہ عبداللہ جزری نے اسے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے ایک سند میں منصور بن سعد نامی راوی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ہے جس میں بہت زیادہ ضعف پایا جاتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور دوسری سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7644
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً