مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ . باب: عورت پر شوہر کے حق کا بیان
وَعَنْ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّ مُعَاذًا قَدِمَ الْيَمَنَ فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَوْلَانَ مَعَهَا بَنُونَ لَهَا اثْنَا عَشَرَ فَتَرَكَتْ أَبَاهُمْ فِي بَيْتِهَا وَأَصْغَرُهُمُ الَّذِي قَدِ افْتَتَنَتْ فَقَامَتْ فَسَلَّمَتْ عَلَى مُعَاذٍ وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِيهَا مُمْسِكَانِ بِضَبْعَيْهَا فَقَالَتْ : مَنْ أَرْسَلَكَ أَيُّهَا الرَّجُلُ ؟ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ : أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : أَرْسَلَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَأَنْتَ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَفَلَا تُخْبِرُنِي يَا رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فَقَالَ لَهَا مُعاذٌ : سَلِينِي عَمَّا شِئْتِ ؟ قَالَتْ : حَدِّثْنِي ] مَا حَقُّ الْمَرْءِ عَلَى زَوْجَتِهِ ؟ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ : تَتَّقِي اللَّهَ مَا اسْتَطَاعَتْ وَتَسْمَعُ وَتُطِيعُ قَالَتْ : أَقْسَمْتُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ لَتُحَدِّثُنِي مَا حَقُّ الرَّجُلِ عَلَى زَوْجَتِهِ ؟ قَالَ لَهَامُعَاذٌ : أَوَمَا رَضِيتِ أَنْ تَسْمَعِي وَتُطِيعِي وَتَتَّقِي اللَّهَ ؟ قَالَتْ : بَلَى ، وَلَكِنْ حَدِّثْنِي مَا حَقُّ الْمَرْءِ عَلَى زَوْجَتِهِ ، فَإِنِّي تَرَكْتُ أَبَا هَؤُلَاءِ شَيْخًا كَبِيرًا فِي الْبَيْتِ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ : وَالَّذِي نَفْسُ مُعَاذٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّكِ تَرْجِعِينَ إِذَا رَجَعْتِ إِلَيْهِ فَوَجَدْتِ الْجُذَامَ قَدْ خَرَقَ لَحْمَهُ وَخَرَقَ مَنْخِرَيْهِ فَوَجَدْتِ مَنْخِرَيْهِ يَسِيلَانِ قَيْحًا وَدَمًا ، ثُمَّ أَلْقَمْتِيهِمَا فَاكِ لِكَيْمَا تَبْلُغِي حَقَّهُ مَا بَلَغْتِ ذَاكَ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرٍ ، وَفِيهِمَا ضَعْفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَا . ¤عائذاللہ بن عبداللہ ابوادریس خولانی بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن تشریف لائے خولان قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سے ان کی ملاقات ہوئی جس کے ساتھ اس کے بارہ بیٹے تھے اس نے ان بچوں کے باپ کو گھر میں چھوڑا تھا ان بچوں میں سے جو سب سے کمسن تھا اس کی بھی داڑھی آ چکی تھی ، وہ عورت کھڑی ہوئی اس نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو سلام کیا وہ اپنے بیٹوں میں دو بیٹوں کے درمیان کھڑی ہوئی تھی اور ان دونوں بیٹوں نے اسے دونوں طرف سے پکڑا ہوا تھا اس عورت نے دریافت کیا : اے صاحب ! آپ کو کس نے بھیجا ہے ؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے اس خاتون نے دریافت کیا : کیا اللہ کے رسول نے آپ کو بھیجا ہے ، اور آپ اللہ کے رسول کے بھیجے ہوئے ہیں کیا آپ مجھے یہ نہیں بتائیں گے اے اللہ کے رسول کے بھیجے ہوئے فرد ! سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم جو چاہو مجھ سے پوچھ لو اس خاتون نے کہا: آپ مجھے یہ بتائیے کہ آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: جہاں تک عورت سے ہو سکے وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہے ، اور وہ اطاعت و فرمانبرداری سے کام لے اس خاتون نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر دریافت کرتی ہوں کہ آپ مجھے یہ بتائیے کہ مرد کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لو اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو اس خاتون نے کہا: جی ہاں لیکن آپ مجھے یہ بتائیے کہ مرد کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے ، کیونکہ میں نے ان بچوں کے باپ کو گھر میں چھوڑا ہے جو ایک بوڑھا عمر رسیدہ شخص ہے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے کہا: اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں معاذ کی جان ہے اگر تم اس شخص کے پاس واپس جاؤ اور پھر تم یہ دیکھو کہ جذام نے اس کے گوشت کو چیر دیا ہے ، اور اس کے نتھنوں کو چیر دیا ہے ، اور تم یہ پاؤ کہ اس کے نتھنوں سے پیپ اور خون بہہ رہا ہے ، اور پھر تم اپنے منہ کے ذریعے اسے چاٹ لو تاکہ اس کے حق تک پہنچ سکو تو پھر بھی تم کبھی بھی اس کے حق تک نہیں پہنچ سکو گی ( یعنی اس کے حق کو ادا نہیں کر سکو گی ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ جو عبدالرحمید بن بہرام کے حوالے سے شہر سے منقول ہے ، اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے ان دونوں راویوں کی توثیق کی گئی ہے ۔