مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابٌ حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ . باب: شوہر پر عورت کے حق کا بیان
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ قَالَ : خَرَجْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ فَإِذَا أَبُو ذَرٍّ قَدْ جَاءَ فَكَلَّمَ امْرَأَتَهُ فِي شَيْءٍ فَكَأَنَّهَا رَدَّتْ عَلَيْهِ وَعَادَ فَعَادَتْ فَقَالَ : مَا تَزِيدِينَ عَلَيَّ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ إِنْ أَثَنَيْتَهَا انْكَسَرَتْ ، وَفِيهَا بَلْغَةٌ وَأَوَدٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا نُعَيْمَ بْنَ قَعْنَبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤نعیم بن قعنب بیان کرتے ہیں : میں ربذہ کی طرف گیا وہاں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ موجود تھے وہ تشریف لائے انہوں نے کسی چیز کے بارے میں اپنی بیوی کے ساتھ بات چیت کی ان کی بیوی نے انہیں پلٹ کر جواب دیا انہوں نے اپنی بات دہرائی ، تو اس عورت نے بھی جواب دہرا دیا تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: تم خواتین اس چیز سے بڑھ کے نہیں ہو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے : ” عورت پسلی کی مانند ہے اگر تم اسے ٹھیک کرنا چاہو گے ، تو وہ ٹوٹ جائے گی ، جبکہ اس میں کفایت ( یعنی بنیادی ضرورت کی تکمیل ) بھی ہو گی اور ٹیڑھا پن بھی ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نعیم بن قعنب کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔