مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِسْلَامِ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ . باب: اسلام اپنے سے پہلے کے امور پر غالب آجاتا ہے
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُفَيْلٍ قَالَ : جَاءَ شَابٌّ فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَدَعْ سَيِّئَةً إِلَّا عَمِلَهَا ، وَلَا خَطِيئَةً إِلَّا رَكِبَهَا ، وَلَا أَشْرَفَ لَهُ سَهْمٌ [ فَمَا فَوْقَهُ ] إِلَّا اقْتَطَعَهُ بِيَمِينِهِ ، وَمَنْ لَوْ قُسِّمَتْ خَطَايَاهُ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَغَمَرَتْهُمْ ! فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسْلَمْتَ ؟ " - أَوْ " أَنْتَ مُسْلِمٌ ؟ " - قَالَ : أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ! فَقَالَ : " اذْهَبْ ، فَقَدْ بُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكَ حَسَنَاتٍ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَغَدَرَاتِي وَفَجَرَاتِي ؟ قَالَ : " وَغَدَرَاتُكَ وَفَجَرَاتُكَ " ثَلَاثًا ، فَوَلَّى الشَّابُّ ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُكَبِّرُ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي أَوْ خَفِيَ عَنِّي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ يَاسِينُ الزَّيَّاتُ يَرْوِي الْمَوْضُوعَاتِ . ¤سیدنا سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک نوجوان آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ، اس نے بلند آواز میں کہا: یا رسول اللہ ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جس نے ہر برائی پر عمل کیا ہو ، ہر خطا کا ارتکاب کیا ہو ، جو بھی چیز اس کے سامنے آئی ہو ، وہ اس نے ہتھیا لی ہو ، جو ایسا شخص ہو کہ اگر اُس کی خطائیں ، تمام اہل مدینہ پر تقسیم کی جائیں ، تو ان سب کو ڈھانپ لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے دریافت کیا : کیا تم نے اسلام قبول کر لیا ہے ؟ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) کیا تم مسلمان ہو ؟ اس نے کہا: جہاں تک میرا تعلق ہے ، تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ ! تمہاری برائیاں ، نیکیوں میں تبدیل کر دی گئی ہیں ، اس نے عرض کی : میری عہد شکنیوں اور زیادتیوں کا کیا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری عہد شکنیاں اور زیادتیاں بھی ( نیکیوں میں تبدیل کر دی گئی ہیں ) یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ( راوی بیان کرتے ہیں : ) وہ نوجوان مڑ گیا ، اور وہ جاتے ہوئے اللہ اکبر اللہ اکبر کہہ رہا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : میں مسلسل اسے تکبیر کہتے ہوئے سنتا رہا ، یہاں تک کہ وہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا ، ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) مجھ سے چھپ گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یاسین زیات ہے ، جو موضوع روایات نقل کرتا ہے ۔