حدیث نمبر: 7574
وَعَنْ عُبَادَةَ قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مَنْ عَزَلَ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْأَنْصَارِ يَعْزِلُونَ . فَفَزِعَ وَقَالَ : " إِنِ النَّفْسَ الْمَخْلُوقَةَ كَائِنَةٌ فَلَا آمُرُ ، وَلَا أَنْهَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ الْحَنَفِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جن لوگوں نے سب سے پہلے عزل کا آغاز کیا وہ انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ تھے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ عزل کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشان ہو گئے آپ نے ارشاد فرمایا : جس جان نے پیدا ہونا ہے اس نے پیدا ہو کے رہنا ہے ، تو میں نہ اس کا حکم دیتا ہوں ، اور نہ ہی اس سے منع کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان حنفی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7574
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (168/1)»